حدیث نمبر: 522
- " إنما تضرب أكباد المطي إلى ثلاثة مساجد: المسجد الحرام ومسجدي هذا والمسجد الأقصى ".
حافظ محفوظ احمد
سعید بن ابوسعید مقبری کہتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کوہِ طور سے واپس آ رہے تھے کہ سیدنا ابوبصرہ جمیل بن بصرہ رضی اللہ عنہ سے ان کی ملاقات ہو گئی ، انہوں نے ان سے کہا: اگر وہاں جانے سے آپ کی میرے ساتھ ملاقات ہو جاتی تو آپ وہاں نہ جاتے ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ”سواریوں کو صرف تین مساجد ہی کی جانب چلایا جائے مسجد حرام، میری مسجد یعنی مسجد نبوی اور مسجد اقصی ۔“
حدیث نمبر: 523
- " إن خير ما ركبت إليه الرواحل مسجدي هذا، والبيت العتيق ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”بہترین (دو) مقامات ، جن کی طرف سفر کیا جانا چاہیئے ، میری یہ مسجد اور بیت عتیق (یعنی بیت اللہ) ہیں ۔“
حدیث نمبر: 524
- " صلاة هاهنا - يريد المدينة - خير من ألف صلاة هاهنا - يريد إيلياء - ".
حافظ محفوظ احمد
عبداللہ بن عثمان بن ارقم اپنے دادا سیدنا ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”کہاں کا ارادہ ہے ؟“ میں نے کہا: بیت المقدس کا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: ”تجارت کی غرض سے ؟“ میں نے کہا: نہیں ، میرا ارادہ تو بیت المقدس میں نماز پڑھنے کا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”یہاں (یعنی مدینہ میں) نماز پڑھنا وہاں (یعنی ایلیا میں) نماز پڑھنے سے ہزار گنا بہتر ہے ۔“