حدیث نمبر: 398
- " توضأ يا أبا جبير! لا تبدأ بفيك، فإن الكافر يبدأ بفيه ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبدالرحمٰن بن جبیر بن نفیر اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابوجبیر رضی اللہ عنہ اپنی بیٹی کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے وضو کے پانی کا حکم دیا اور فرمایا : ” ابوجبیر ! وضو کرو ۔ “ ابوجبیر نے منہ سے ( وضو کرنا ) شروع کیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو فرمایا : ” منہ سے شروع نہ کرو ، کیونکہ کافر منہ سے شروع کرتا ہے ۔ “ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کا پانی منگوایا ( اور اس ترتیب سے وضو کیا ) ، ہیتھیلیاں دھوئیں ، حتی کہ ان کو صاف کیا ، تین بار کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا ، تین دفعہ چہرہ دھویا ، تین بار کہنی تک دایاں بازو دھویا اور پھر تین دفعہ بایاں ، پھر سر کا مسح کیا اور دونوں پاؤں دھوئے ۔
حدیث نمبر: 399
- " كان إذا توضأ أدار الماء على مرفقيه ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تو پانی کو کہنیوں پر گھماتے ۔
حدیث نمبر: 400
- " كان يتوضأ واحدة واحدة وثنتين ثنتين وثلاثا ثلاثا، كل ذلك يفعل ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی وضو میں ایک ایک دفعہ ( اعضا دھوتے ) ، کبھی دو دو دفعہ اور کبھی تین تین دفعہ ۔ ان میں سے ہر طریقہ اپناتے تھے ۔
حدیث نمبر: 401
- " هذا وضوئي ووضوء الأنبياء قبلي ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کا پانی منگوایا اور اپنا چہرہ ، دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں ایک ایک دفعہ دھوے اور فرمایا : ”یہ وضو ہے کہ جس کے بغیر اللہ تعالیٰ نماز قبول نہیں کرتے ۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا دو دو بار (اعضاء) دھوے اور فرمایا : ”یہ وضو ہے کہ جو آدمی ایسا وضو کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے دو گنا اجر عطا کرے گا ۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا تین تین بار (اعضا) دھوئے اور فرمایا : ”یہ تمہارے نبی اور اس سے پہلے والے انبیاء کا وضو ہے ۔“ یا فرمایا : ”یہ میرا وضو ہے اور مجھ سے قبل انبیاء کا وضو رہا ہے ۔“
حدیث نمبر: 402
- " هكذا الوضوء، فمن زاد على هذا، فقد أساء وتعدى وظلم. يعني الوضوء ثلاثا ثلاثا ".
حافظ محفوظ احمد
عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ ان کے دادا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں : ایک بدو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور وضو کے بارے میں سوال کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وضو کر کے دکھایا ، جس میں تین تین دفعہ (اعضا دھوئے ) ، پھر فرمایا : ”وضو اس طرح کیا جاتا ہے ، جو اس (مقدار) سے زیادہ دفعہ (اعضا) دھوتا ہے، وہ برا کرتا ہے ، زیادتی کرتا ہے اور ظلم کرتا ہے ۔“