حدیث نمبر: 3142
ـ (كان إذا دعَا دعَا ثلاثاً، وإذا سألَ سألَ ثلاثاً) .
حافظ محفوظ احمد

سیدنا عبدللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے ، ابوجہل اور اس کے حواری وہاں بیٹھے ہوئے تھے اور ایک دن پہلے کچھ اونٹنیاں ذبح کی گئی تھیں ۔ ابوجہل نے ( ‏‏‏‏موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ) کہا : کون ہے جو بنو فلاں کی ذبح شدہ اونٹنیوں کی اوجھڑیاں لائے اور محمد ( ‏‏‏‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) جب سجدہ کرے تو اس کے اوپر رکھ دے ؟ ( ‏‏‏‏جواباً ) ایک بدبخت ترین شخص اٹھا ، اوجھڑیاں اٹھا کر لایا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو اوپر رکھ دیں ۔ ( ‏‏‏‏یہ دیکھ کر ) وہ تکلفاً ہنسنے اور ایک دوسرے پر گرنے لگے ، میں کھڑا ( ‏‏‏‏سب کچھ ) دیکھ رہا تھا ، میں نے کہا : اگر میں صاحب قدرت ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ سے ہٹا دیتا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں پڑے رہے اور سر نہ اٹھایا ۔ کسی آدمی نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جاکر اطلاع دی ۔ وہ ، جو ابھی تک بچی تھیں ، آئیں ، انہیں ہٹایا ، پھر ان پر متوجہ ہوئیں اور انہیں برا بھلا کہا ۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو بآواز بلند ان کے لیے بددعائیں کیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بددعا کرتے تو تین دفعہ کرتے اور اسی طرح جب ( ‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ سے ) سوال کرتے تو تین دفعہ کرتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اے اللہ ! قریش کی گرفت کر۔“ ( ‏‏‏‏یہ بددعا تین دفعہ کی ) ۔ جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنی تو ان کی ہنسی رک گئی اور وہ خوفزدہ ہو گئے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اے اللہ ! ابوجہل بن ہشام ، عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ ، ولید بن عقبہ ، امیہ بن خلف اور عقبہ بن عامر کا مؤاخذہ ( ‏‏‏‏اور گرفت ) کر ۔“ ایک ساتویں آدمی کا نام بھی لیا تھا ، مجھے وہ یاد نہیں رہا ۔ اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ! میں نے ان سب کو بدر والے دن پچھڑا ہوا دیکھا ، پھر انہیں گھسیٹ کر بدر کے کنویں میں ڈال دیا گیا ۔

حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي / حدیث: 3142
ـ (كان إذا دعَا دعَا ثلاثاً، وإذا سألَ سألَ ثلاثاً) .
_____________________

أخرجه مسلم (5/179 ـ 180) عن زكريا عن أبي إسحاق عن عمرو بن
ميمون الأَوْدي عن ابن مسعود قال:
بينما رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يصلي عند البيت، وأبو جهل وأصحاب له جلوس، وقد
نُحرت جزور بالأمس، فقال أبو جهل: أيكم يقوم إلى سلا جزور بني فلان
فيأخذه، فيضعه في كتفي محمد إذا سجد؟ فانبعث أشقى القوم، فأخذه، فلما
سجد النبي - صلى الله عليه وسلم -؛ وضعه بين كتفيه، قال: فاستضحكوا، وجعل بعضهم يميل
على بعض؛ وأنا قائم أنظر؛ لو كانت لي منعة طرحته عن ظهر رسول الله - صلى الله عليه وسلم -،
والنبي - صلى الله عليه وسلم - ساجد ما يرفع رأسه، حتى انطلق إنسان فأخبر فاطمة، فجاءت ـ وهي
جويرية ـ فطرحته عنه، ثم أقبلت عليهم تشتمهم، فلما قضى النبي - صلى الله عليه وسلم - صلاته؛
رفع صوته ثم دعا عليهم، وكان إذا دعا. . . ثم قال:
«اللهم! عليك بقريش» (ثلاث مرات) .
فلما سمعوا صوته: ذهب عنهم الضحك، وخافوا دعوته، ثم قال:
«اللهم! عليك بأبي جهل بن هشام، وعتبة بن ربيعة، وشيبة بن ربيعة،
والوليد بن عقبة، وأمية بن خلف، وعقبة بن أبي معيط»
، وذكر السابع ولم
أحفظه. فوالذي بعث محمداً - صلى الله عليه وسلم - بالحق؛ لقد رأيت الذين سمى صرعى يوم بدر،
ثم سُحبوا إلى القليب: قليب بدر.
قال أبو إسحاق: (الوليد بن عقبة) غلط في هذا الحديث.
ومن هذا الوجه أخرجه البيهقي في «دلائل النبوة» (2/278) . وروى منه أبو
نعيم في «الحلية» (4/153 و 347) حديث الترجمة، وقال:
__________جزء: 7 /صفحہ: 1385__________

«رواه سفيان الثوري، وزهير، وإسرائيل عن أبي إسحاق نحوه» .
قلت: أخرجها عنهم البخاري، وعن شعبة أيضاً (240و520 و2934و3185
و3854 و2960) نحوه مطولاً ومختصراً، وكذا مسلم عنهم غير إسرائيل.
وأخرجه النسائي (1/58) في «الكبرى» (8668و8669)، وابن حبان
(6536)، وأحمد (1/393و417)، والبزار (2398و2399)، والطبراني في
«المعجم الأوسط» (762 ـ دار الحرمين)، والبيهقي أيضاً وفي «السنن الكبرى»
(9/7 ـ 8) بعضهم من بعض الطرق المذكورة، وبعضهم من طرق أخرى.
وفي حديث سفيان عند مسلم وغيره:
وكان يستحب ثلاثً يقول: «اللهم! عليك بقريش، اللهم ...» . *