حدیث نمبر: 3138
- " اللهم اغفر ذنبه، وطهر قلبه، وحصن فرجه ".
حافظ محفوظ احمد

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ایک نوجوان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! مجھے زنا کی اجازت دیجئیے ۔ لوگ اس کی طرف متوجہ ہوئے اسے ڈانٹ ڈپٹ کی اور کہا : اوئے رک جا ، اوئے رک جا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ذرا قریب ہو۔“ وہ آپ کے قریب آیا اور بیٹھ گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا : ”کیا تم اس چیز کو اپنی ماں کے لیے پسند کرتے ہو ؟ اس نے کہا : مجھے اللہ آپ پر قربان کرے ، نہیں ، اللہ کی قسم ! ( ‏‏‏‏نہیں ) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”لوگ بھی اپنی ماؤں کے لیے اس ( ‏‏‏‏خباثت ) کو پسند نہیں کرتے ، ( ‏‏‏‏ اچھا یہ بتاؤ کہ ) کیا تم اسے اپنی بیٹی کے لیے پسند کرو گے ؟“ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں آپ پر قربان ہوں ، نہیں ، اللہ کی قسم ! ( ‏‏‏‏ نہیں ) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اسی طرح لوگ ہیں کہ وہ بھی اپنی بیٹیوں کے لیے اس چیز کو ناپسند کرتے ہیں ، ( ‏‏‏‏ اچھا یہ بتاؤ کہ ) کیا تم اسے اپنی بہن کے لیے پسند کرو گے ؟“ اس نے کہا : اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کر دے ، نہیں ، اللہ کی قسم ! ( ‏‏‏‏نہیں ) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”لوگ بھی اس چیز کو اپنے بہنوں کے لیے ناپسند کرتے ہیں ، ( ‏‏‏‏اچھا یہ بتاؤ کہ ) کیا تم اسے اپنی پھوپھی کے لیے پسند کرو گے ؟“ اس نے کہا : نہیں ، اللہ کی قسم ! میں آپ پر قربان ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تیری طرح لوگ بھی اپنے پھوپھیوں کے لیے اسے ناپسند کرتے ہیں ، ( ‏‏‏‏اچھا یہ بتاؤ کہ ) کیا تم اسے اپنی خالہ کے لیے پسند کرو گے ؟“ اس نے کہا : میں آپ پر قربان ہوں ، نہیں ، اللہ کی قسم ! ( ‏‏‏‏نہیں ) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”لوگ بھی اس چیز کو اپنی خالاؤں کے لیے ناپسند کرتے ہیں ۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنا ہاتھ رکھا اور یہ دعا دی : ”اے اللہ ! اس کے گناہ بخش دے اور اس کی شرمگاہ کی حفاظت فرما ۔“ اس کے بعد وہ نوجوان کسی چیز کی طرف متوجہ نہیں ہوتا تھا ۔

حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي / حدیث: 3138
- " اللهم اغفر ذنبه، وطهر قلبه، وحصن فرجه ".
_____________________

أخرجه أحمد (5 / 256 - 257): حدثنا يزيد بن هارون حدثنا حريز حدثنا سليم
ابن عامر عن أبي أمامة قال:
" إن فتى شابا أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله ائذن لي
بالزنا، فأقبل القوم عليه فزجروه وقالوا: مه مه! فقال: ادنه، فدنا منه
قريبا قال: فجلس، قال: أتحبه لأمك؟ قال: لا والله جعلني الله فداءك، قال
: ولا الناس يحبونه لأمهاتهم، قال: أفتحبه لابنتك؟ قال: لا والله يا رسول
الله جعلني الله فداءك، قال: ولا الناس يحبونه لبناتهم، قال: أفتحبه لأختك
؟ قال: لا والله جعلني الله فداءك، قال: ولا الناس يحبونه لأخواتهم قال:
أفتحبه لعمتك. قال: لا والله جعلني الله فداءك، قال: ولا الناس يحبونه
لعماتهم، قال: أفتحبه لخالتك؟ قال: لا والله جعلني الله فداءك، قال:
ولا الناس يحبونه لخالاتهم، قال: فوضع يده عليه وقال: اللهم اغفر
__________جزء: 1 /صفحہ: 712__________

ذنبه وطهر
قلبه وحصن فرجه. فلم يكن بعد ذلك الفتى يلتفت إلى شيء ".
وهذا سند صحيح رجاله كلهم ثقات رجال الصحيح.