حدیث نمبر: 3117
- " أعرضوا علي رقاكم، لا بأس بالرقى ما لم يكن فيه شرك ".
حافظ محفوظ احمد

سیدنا عوف بن مالک اشجی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ہم دور جاہلیت میں دم کیا کرتے تھے ۔ ( ‏‏‏‏مسلمان ہونے بعد ) پوچھا : اے اللہ کے رسول ! آپ کا ان ( ‏‏‏‏دموں ) کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اپنے تعویذات ( ‏‏‏‏دم ) مجھ پر پیش کرو اور ( ‏‏‏‏یاد رکھو کہ ) اس وقت تک دموں میں کوئی حرج نہیں جب تک وہ شرک پر مشتمل نہ ہوں ۔“

حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي / حدیث: 3117
- " أعرضوا علي رقاكم، لا بأس بالرقى ما لم يكن فيه شرك ".
_____________________

أخرجه ابن وهب في " الجامع " (119) وعنه مسلم في " صحيحه " (7 / 19)
وكذا أبو داود (3886) عن معاوية بن صالح عن عبد الرحمن بن جبير عن أبيه عن
عوف بن مالك الأشجعي قال:
__________جزء: 3 /صفحہ: 55__________

" كنا نرقي في الجاهلية، فقلنا: يا رسول الله
كيف ترى في ذلك؟ فقال: " فذكره. وتابعه عبد الله بن صالح حدثني معاوية به.
أخرجه البخاري في " التاريخ الكبير " (4 / 1 / 56) .