سلسله احاديث صحيحه
فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي— فضائل قرآن، دعا ئیں، اذکار، دم
باب: وہ آیات، جن کی تلاوت منسوخ ہو گئی، لیکن حکم باقی ہے
- " جاء رجل إلى عمر يسأله، فجعل ينظر إلى رأسه مرة، وإلى رجليه أخرى هل يرى من البؤس شيئا؟ ثم قال له عمر: كم مالك؟ قال: أربعون من الإبل! قال ابن عباس: صدق الله ورسوله: " لو كان لابن آدم واديان من ذهب.. " الحديث. فقال عمر: ما هذا؟ فقلت: هكذا أقرأنيها أبي. قال: فمر بنا إليه. قال: فجاء إلى أبي، فقال: ما يقول هذا؟ قال أبي: هكذا أقرأنيها رسول الله صلى الله عليه وسلم ".ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہتے ہیں ایک آدمی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر سوال کر رہا تھا ، آپ کبھی اس کے سر کو دیکھتے اور کبھی اس کے پاؤں کو ، تاکہ اس میں کچھ خستہ حالی و تنگدستی نظر آئے ۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا ، تیرا کتنا مال ہے ؟ اس نے کہا : چالیس اونٹ ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا کہ اگر آدم کے بیٹے کے لیے سونے کی دو وادیاں ہوں تو وہ لازماً تیسری وادی بھی تلاش کرے ۔ آدم کے بیٹے کا پیٹ صرف مٹی ہی بھرے گی اور اللہ اسی پر نظر کرم فرماتے ہیں ، جو اس کی طرف توبہ کرتا ہے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ کیا ہے ؟ ( یعنی حدیث کے بارے تعجب کیا ) ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے کہا : ابی رضی اللہ عنہ نے مجھے اسی طرح پڑھایا تھا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : ہمیں اس کے پاس لے چلو ۔ کہتے ہیں عمر رضی اللہ عنہ ابی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا یہ کیا کہتا ہے ؟ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مجھے اسی طرح بتلایا تھا ۔
_____________________
أخرجه أحمد (5 / 117) وابن حبان في " صحيحه " (5 / 97 / 3226)
__________جزء: 6 /صفحہ: 965__________
من طريق أبي
معاوية عن أبي إسحاق الشيباني عن يزيد بن الأصم عن ابن عباس قال: فذكره.
قلت: وهذا إسناد صحيح على شرط مسلم. هذا هو الحديث الثاني الدال على قوله:
" لو كان لابن آدم.. " كان قرآنا يتلى، ثم رفع.
الحديث الثالث: عن زيد بن أرقم رضي الله عنه قال: " لقد كنا نقرأ على عهد
رسول الله صلى الله عليه وسلم: لو كان لابن آدم واديان من ذهب وفضة لابتغى
إليهما آخر، ولا يملأ بطن ابن آدم إلا التراب، ويتوب الله على من تاب ".