سلسله احاديث صحيحه
الاداب والاستئذان— آداب اور اجازت طلب کرنا
باب: ہر درجہ کے مسلمان کے لیے امور خیر کا تعین
- " على كل مسلم صدقة قيل: أرأيت إن لم يجد؟ قال: يعتمل بيديه فينفع نفسه ويتصدق قيل: أرأيت إن لم يستطع؟ قال: يعين ذا الحاجة الملهوف قيل: أرأيت إن لم يستطع؟ قال: يأمر بالمعروف أو الخير قال: أرأيت إن لم يفعل؟ قال: يمسك عن الشر فإنها صدقة ".سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہر مسلمان پر صدقہ کرنا ضروری ہے ۔“ کسی نے پوچھا : اگر صدقہ کرنے کے لیے اس کے پاس کچھ نہ ہو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اپنے ہاتھوں سے کام ( محنت ، مزدوری ) کرے اور ( اجرت حاصل کر کے ) اپنے نفس کو بھی نفع پہنچائے اور صدقہ بھی کرے ۔ ”پھر پوچھا گیا : اگر اس کو اس کی بھی طاقت نہ ہو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کسی مصیبت زدہ حاجت مند کی مدد کر دے ۔“ پھر پوچھا گیا : اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”نیکی یا بھلائی کا حکم کرے ۔“ پوچھا گیا : اگر وہ یہ بھی نہ کر سکے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”دوسروں کو نقصان پہنچانے سے باز رہے ، یقیناً یہ بھی صدقہ ہے ۔“
_____________________
أخرجه البخاري (2 / 121) وفي " الأدب المفرد " (35 - 46) ومسلم
(3 / 83) والسياق له والنسائي (1 / 351) والطيالسي (ص 67 رقم 495)
وأحمد (4 / 395، 411) من حديث أبي موسى الأشعري مرفوعا وكذلك رواه
الدارمي (2 / 309) . وللجملة الأخيرة منه شاهد من حديث أبي موسى يأتي في
التخريج قريبا.