سلسله احاديث صحيحه
الاداب والاستئذان— آداب اور اجازت طلب کرنا
باب: عزت والے مقام کا مستحق مالک خود ہوتا ہے
- " الرجل أحق بصدر دابته وصدر فراشه وأن يؤم في رحله ".عبداللہ بن یزید خطمی ، جو کوفہ پر گورنر تھے ، کہتے ہیں : ہم قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے گھر آئے ، مؤذن نے نماز کے لیے اذان دی ۔ ہم نے قیس کو کہا کہ کھڑے ہوں اور ہمیں نماز پڑھائیں ، انہوں نے کہا : میں جن لوگوں کا امیر نہیں ہوں ان کو نماز نہیں پڑھاؤں گا ۔ ایک آدمی ، جو کم درجہ نہیں تھا اور جسے عبداللہ بن حنظلہ غسیل کہا جاتا تھا ، نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ایک آدمی دوسروں کی بہ نسبت اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ وہ اپنے جانور پر آگے بیٹھے ، اپنی مخصوص نشست گاہ کی دائیں جانب ( یا اس کے سامنے والے حصے پر ) بیٹھے اور اپنی رہائش گاہ پر امامت کروائے ۔ ” قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سن کر اپنے غلام سے کہا : او فلاں ! کھڑے ہو اور نماز پڑھاؤ ۔
_____________________
أخرجه الدارمي (2 / 285) والبزار (55 - زوائده) والطبراني في " الكبير "
و" الأوسط " (رقم - 900) مختصرا من طريق إسحاق بن يحيى بن طلحة عن المسيب بن
رافع ومعبد بن خالد عن عبد الله بن يزيد الخطمي - وكان أميرا على الكوفة -
قال: " أتينا قيس بن سعد بن عبادة في بيته، فأذن المؤذن للصلاة، وقلنا لقيس
: قم فصل لنا، فقال: لم أكن لأصلي بقوم لست عليهم بأمير، فقال رجل ليس بدونه
يقال له عبد الله بن حنظلة الغسيل: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
(فذكره)، فقال قيس بن سعد عند ذلك: يا فلان - لمولى له -: قم فصل لهم ".
قلت: وهذا إسناد ضعيف، إسحاق هذا ضعيف كما في " التقريب ". وقال الهيثمي
في " المجمع " (2 / 65) بعد ما عزاه للمذكورين غير الدارمي: " وفيه إسحاق
ابن يحيى بن طلحة ضعفه أحمد وابن معين والبخاري، ووثقه يعقوب بن شيبة وابن
حبان ".
__________جزء: 4 /صفحہ: 126__________
قلت: فمثله يستشهد به ويتقوى حديثه بغيره وقد جاء حديثه هذا مفرقا، فالجملة
الأولى منه أخرجها أحمد (5 / 353) والطبراني في " الأوسط " (7601) وغيره
من حديث بريدة نحوه، وإسناده صحيح، وهو مخرج في " المشكاة " (3918) .
وأخرجها أحمد أيضا (3 / 32) من حديث أبي سعيد الخدري مرفوعا به، وزاد:
" وأحق بمجلسه إذا رجع ". وفيه إسماعيل بن رافع وهو ضعيف. وسائره جاء
معناه في حديث أبي مسعود البدري مرفوعا: " يؤم القوم أقرؤهم لكتاب الله ...
ولا تؤمن الرجل في أهله ولا في سلطانه، ولا تجلس على تكرمته في بيته إلا أن
يأذن لك ". أخرجه مسلم (2 / 133 - 134) وغيره. وهو مخرج في " صحيح أبي
داود " (594 - 598) .