سلسله احاديث صحيحه
الاداب والاستئذان— آداب اور اجازت طلب کرنا
باب: مدعو لوگوں کا داعی سے زائد افراد کے لیے اجازت طلب کرنا
- (إنّك دعوتنا خامس خمسة، وهذا رجلٌ قد تبعنا، فإن شئت أذنت له، وإن شئت تركته. قال: بلٌ أذنتُ له) .سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی ، جسے ابوشعیب کہا جاتا تھا ، کا غلام قصاب تھا ۔ اس نے اپنے غلام سے کہا : کھانا تیار کرو ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پانچ آدمیوں سمیت دعوت دینے کے لیے جا رہا ہوں ۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پانچ افراد سمیت بلایا ۔ ( جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانے لگے تو ) ایک آدمی ان کے پیچھے چل پڑا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تم نے ہم پانچ افراد کو دعوت دی ہے ، یہ آدمی ہمارے پیچھے چلتا رہا ، اگر تمہاری مرضی ہو تو اسے اجازت دے دو اور مرضی نہ ہونے کی صورت میں رہنے دو ۔“ اس نے کہا ۔ کیوں نہیں ، میں اسے ( کھانا کھانے کی ) اجازت دوں گا ۔
_____________________
أخرجه البخاري (5434 و5461)، ومسلم (6/115- 116)، والترمذي (1099)، والنسائي في"السنن الكبرى" (6614 و6615)، والدارمي (2/105-106)،
والطبراني في "المعجم الكبير" (17/ 524- 532)، والبغوي في "شرح السنة" (9/145) من طريق أبي مسعود الأنصاري قال:
كان من الأنصار رجل يقال له: أبو شعيب، وكان له غلام لحام، فقال: اصنع لي طعاماً أدعو رسول الله - صلى الله عليه وسلم - خامس خمسة، فدعا رسول الله - صلى الله عليه وسلم - خامس خمسة، فتبعهم رجل، فقال النبي - صلى الله عليه وسلم -: ... فذكر الحديث. والسياق للبخاري. *
من معجزاته - صلى الله عليه وسلم -، وبطولات بعض أصحابه