سلسله احاديث صحيحه
الاداب والاستئذان— آداب اور اجازت طلب کرنا
باب: اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کا انجام خیر
- " إن رجلا زار أخا له في قرية، فأرصد الله تعالى على مدرجته ملكا، فلما أتى عليه الملك قال: أين تريد؟ قال: أزور أخا لي في هذه القرية، قال: هل له عليك من نعمة (تربها) ؟ قال: لا، إلا أني أحببته في الله، قال: فإني رسول الله إليك أن الله عز وجل قد أحبك كما أحببته له ".سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک آدمی کسی دوسری بستی میں اپنے بھائی کی زیارت کے لیے گیا ، اللہ تعالیٰ راستے میں اس کے انتظار میں ایک فرشتہ بٹھا دیا ، جب وہ شخص اس کے پاس سے گزرا ، تو فرشتے نے پوچھا : تم کہاں جا رہے ہو ؟ اس نے کہا : اس بستی میں میں میرا بھائی رہتا ہے ، اس کی زیارت کے لیے جا رہا ہوں ۔ فرشتے نے پوچھا : کیا اس کا تم پر کوئی احسان ہے ؟ جس کی وجہ سے تم یہ تکلیف اٹھا رہے ہو اور اس کا بدلہ اتارنے جا رہے رہو ؟ اس نے کہا : نہیں ۔ صرف اس لیے جا ر ہا ہوں کہ میں اس سے اللہ کے لیے محبت کرتا ہوں ۔ فرشتے نے کہا : میں تیری طرف اللہ تعالیٰ کا فرستادہ ہوں ( اور یہ بتانے کے لیے آیا ہوں کہ ) اللہ تعالیٰ بھی تجھ سے محبت کرتا ہے جیسے تو اس سے اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرتا ہے ۔ “
_____________________
رواه أبو بكر الشافعي في " الفوائد " (115 / 2) والحسن بن علي الجوهري في
" فوائد منتقاة " (27 / 1) من طرق عن حماد بن سلمة عن ثابت عن أبي رافع عن
أبي هريرة مرفوعا.
قلت: وهذا سند صحيح على شرط مسلم وقد أخرجه في " صحيحه " (8 / 12) من هذا
الوجه، وقول الحافظ محمد بن ناصر في " التنبيه " (ق 21 / 2) أنه مخرج في
" الصحيحين " وهم منه، فليس الحديث في صحيح البخاري. وإنما أخرجه في " الأدب
المفرد " (350) . ورواه ابن وهب في " الجامع " (30) .