سلسله احاديث صحيحه
الاداب والاستئذان— آداب اور اجازت طلب کرنا
باب: ایک مجرم کی وجہ سے پورے قبیلے کی مذمت کرنا سنگین جرم ہے، حقیقی باپ سے نسبت کی نفی کرنا سنگین جرم ہے
حدیث نمبر: 2737
- " إن أعظم الناس فرية لرجل هجا رجلا، فهجا القبيلة بأسرها ورجل انتفى من أبيه وزنى أمه ".حافظ محفوظ احمد
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جھوٹا الزام لگانے میں سب سے بڑا مجرم وہ ہے ، جو ایک آدمی کے عیوب بیان کرنا چاہتا ہے ، لیکن وہ اس کے پورے قبیلے کی مذمت کر دیتا ہے اور وہ آدمی بھی ہے جو اپنے ( حقیقی ) باپ کا انکار کر کے اپنی ماں کو زانیہ قرار دیتا ہے ۔ “
- " إن أعظم الناس فرية لرجل هجا رجلا، فهجا القبيلة بأسرها ورجل انتفى من أبيه وزنى أمه ".
_____________________
أخرجه ابن ماجه (2 / 411) والبيهقي (10 / 241) عن سليمان الأعمش أنه حدثهم
عن عمرو بن مرة عن يوسف بن ماهك عن عبيد بن عمير عن عائشة رضي الله عنها
أنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فذكره.
قلت: وهذا إسناد صحيح، رجاله ثقات كلهم على شرط الشيخين، وقد صححه
البوصيري في " الزوائد " (ق 227 / 1 - الحلبية) .
_____________________
أخرجه ابن ماجه (2 / 411) والبيهقي (10 / 241) عن سليمان الأعمش أنه حدثهم
عن عمرو بن مرة عن يوسف بن ماهك عن عبيد بن عمير عن عائشة رضي الله عنها
أنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فذكره.
قلت: وهذا إسناد صحيح، رجاله ثقات كلهم على شرط الشيخين، وقد صححه
البوصيري في " الزوائد " (ق 227 / 1 - الحلبية) .