سلسله احاديث صحيحه
الاداب والاستئذان— آداب اور اجازت طلب کرنا
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر آدمی کو راضی کرنے کا ایک انداز
- " ادفعوها إلى خالتها، فإن الخالة أم ".سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب ہم مکہ سے نکلے تو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہمارے پیچھے چل پڑی ، اس نے آواز دی : میرے چچا جان ! میرے چچا جان ! میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو تھماتے ہوئے کہا : اپنی چچا زاد بہن کو اپنے پاس رکھو ۔ جب ہم مدینہ پہنچے تو میں ، زید اور جعفر جھگڑا کرنے لگے ۔ میں نے کہا : یہ میرے چچا کی بیٹی ہے اور میں اسے لے کر آیا ہوں ۔ زید نے کہا : یہ تو میرے بھائی کی بیٹی ہے اور جعفر نے کہا : میرے چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ میری بیوی ہے ۔ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے جعفر سے کہا : ”تو پیدائشی اور اخلاقی اوصاف میں مجھ سے مشابہت رکھتا ہے ۔“ زید سے کہا : ”تو ہمارا بھائی اور دوست ہے ۔“ اور مجھے کہا : تو مجھ سے ہے ، میں تجھ سے ہوں ۔ اس طرح کرو کہ اس ( بچی ) کو اس کی خالہ کے حوالے کر دو ، کیونکہ خالہ بھی ماں ہی ہوتی ہے ۔“ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ اس سے شادی کیوں نہیں کر لیتے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”یہ میرے رضاعی بھائی ( سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ ) کی بیٹی ہے ۔“
_____________________
أخرجه أبو داود (1 / 530 - الحلبية) والحاكم (3 / 120) واللفظ له وأحمد
(1 / 88 و 115) من طرق عن إسرائيل عن إسحاق عن هبيرة بن يريم وهانيء بن
هانيء عن علي قال: " لما خرجنا من مكة اتبعنا ابنة حمزة فنادت: يا عم يا
عم! فأخذت بيدها فناولتها فاطمة قلت: دونك ابنة عمك، فلما قدمنا المدينة
اختصمنا فيها أنا وزيد وجعفر، فقلت: أنا أخذتها وهي ابنة عمي، وقال زيد
: ابنة أخي، وقال جعفر: ابنة عمي وخالتها عندي، فقال رسول الله صلى الله
عليه وسلم لجعفر: أشبهت خلقي وخلقي، وقال لزيد: أنت أخونا ومولانا،
وقال لي: أنت مني وأنا منك، ادفعوها ... فقلت: ألا تزوجها يا رسول الله؟
قال: " إنها ابنة أخي من الرضاعة ". وقال الحاكم: " صحيح الإسناد ولم
يخرجاه بهذه الألفاظ وإنما اتفقا على حديث أبي إسحاق عن البراء مختصرا ".
قلت: أبو إسحاق هو السبيعي وكان اختلط لكن له طريق أخرى عند أبي داود
والطحاوي في " المشكل " (4 / 174) والحاكم (3 / 211) عن يزيد بن الهاد عن
محمد بن نافع بن عجير عن أبيه نافع عن علي بن أبي طالب به نحوه. وفيه:
__________جزء: 3 /صفحہ: 178__________
" وأما الجارية فادفعي بها لجعفر فإن خالتها عنده وإنما الخالة أم ". وقال
الحاكم: " صحيح على شرط مسلم ". كذا قال، ونافع بن عجير ليس من رجال مسلم،
وقد اختلف في إسناده كما في ترجمته من " التهذيب ". وللحديث شاهد مرسل قوي
بلفظ: " الخالة أم ". رواه ابن سعد (4 / 35 - 36) عن جعفر بن محمد عن أبيه
قال: إن ابنة حمزة لتطوف بين الرجال، إذا أخذ علي بيدها فألقاها إلى فاطمة في
هودجها، قال: فاختصم فيها علي وجعفر وزيد بن حارثة حتى ارتفعت أصواتهم،
فأيقظوا النبي صلى الله عليه وسلم من نومه، قال: هلموا أقضي بينكم فيها وفي
غيرها، فقال علي: ابنة عمي وأنا أخرجتها وأنا أحق بها، وقال جعفر: ابنة
عمي وخالتها (¬1) عندي، وقال زيد: ابنة أخي، فقال في كل واحد قولا راضيا،
فقضى بها لجعفر وقال: (فذكره)، فقام جعفر فحجل حول النبي صلى الله عليه
وسلم - دار عليه - فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ما هذا؟ قال: شيء رأيت
الحبشة يصنعونه بملوكهم.
قلت: وسنده صحيح لولا أنه مرسل.