سلسله احاديث صحيحه
المرض والجنائز والقبور— بیماری، نماز جنازہ، قبرستان
باب: میت کے لیے چالیس مومنوں کی سفارش قبول ہوتی ہے
- " ما من أربعين من مؤمن يشفعون لمؤمن، إلا شفعهم الله فيه ".سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا غلام بیان کرتا ہے کہ عبداللہ کا بیٹا فوت ہو گیا ، انہوں نے مجھے کہا: کریب ! ذرا اٹھو اور دیکھ کر آؤ کہ کیا میرے بیٹے (کی نماز جنازہ) کے لیے کوئی آیا ہے ؟ میں نے کہا: جی ہاں ۔ انہوں نے کہا: اوہو ! تو ہلاک ہو جائے ، وہ ہیں کتنے . . . چالیس ہیں ؟ میں نے کہا: چالیس سے تو زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا: میرے بیٹے کی میت کو اٹھاؤ ، میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا : ”اگر چالیس مومن کسی مومن (کی مغفرت) کی سفارش کریں تو اللہ تعالیٰ میت کے حق میں ان کی یہ سفارش قبول فرما لیتا ہے ۔“
_____________________
أخرجه ابن ماجة (1 / 453) عن بكر بن سليم حدثني حميد بن زياد الخراط عن كريب
مولى عبد الله بن عباس قال: " هلك ابن لعبد الله بن عباس، فقال لي: يا
كريب! قم فانظر هل اجتمع لابني أحد؟ فقلت: نعم، فقال: ويحك، كم تراهم..
أربعين؟ قلت: لا بل أكثر. قال: فاخرجوا بابني، فأشهد لسمعت رسول الله صلى
الله عليه وسلم يقول: " فذكره ". قلت: وهذا إسناد ضعيف، علته بكر هذا،
أورده الذهبي في " المغني "، وقال: " قال ابن عدي: يتفرد بما لا يتابع عليه
، وهو ضعيف ". قلت: وقد خالفه في إسناده عبد الله بن وهب فقال: أخبرني أبو
صخر (وهو حميد بن زياد الخراط) عن شريك بن عبد الله بن أبي نمر عن كريب مولى
ابن عباس به نحوه، ولفظ المرفوع منه: " ما من رجل مسلم يموت، فيقوم على
جنازته أربعون رجلا لا يشركون بالله شيئا إلا شفعهم الله فيه ". أخرجه مسلم (
3 / 53) وأبو داود (2 / 64) والبيهقي (4 / 30) وأحمد (1 / 277 - 278) .