حدیث نمبر: 1762
- " عجبت لأمر المؤمن، إن أمره كله خير، إن أصابه ما يحب حمد الله وكان له خير ، وإن أصابه ما يكره فصبر كان له خير، وليس كل أحد أمره كله خير إلا المؤمن ".
حافظ محفوظ احمد

سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں تشریف فرما تھے ، اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا پڑے اور فرمایا : ”کیا تم مجھ سے سوال نہیں کرتے کہ میں کیوں مسکرایا ہوں ؟“ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ! آپ کیوں ہنسے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”مجھے مومن کے معاملے پر بڑا تعجب ہے ، اس کے ہر کام میں اس کے لیے بھلائی ہے ، اگر اسے کوئی پسندیدہ چیز نصیب ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کی تعریف کرتا ہے اور تعریف کرنا اس کے لیے بہتر ہے اور اگر وہ کسی مکروہ چیز کا سامنا کرتا ہے اور اس پر صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے بہتر ہے ، مومن کے علاوہ کوئی بھی ایسا نہیں کہ اس کے ہر کام میں خیر ہو ۔“

حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / المرض والجنائز والقبور / حدیث: 1762
- " عجبت لأمر المؤمن، إن أمره كله خير، إن أصابه ما يحب حمد الله وكان له خير، وإن أصابه ما يكره فصبر كان له خير، وليس كل أحد أمره كله خير إلا المؤمن ".
_____________________

أخرجه الدارمي (2 / 318) وأحمد (6 / 16) عن حماد بن سلمة حدثنا ثابت عن
عبد الرحمن بن أبي ليلى عن صهيب قال:
" بينا رسول الله صلى الله عليه وسلم قاعد مع أصحابه إذ ضحك، فقال: ألا
تسألوني مم أضحك؟ قالوا: يا رسول الله! ومم تضحك؟ قال: " فذكره.
قلت: وهذا سند صحيح على شرط مسلم، وقد أخرج في " صحيحه " (8 /
__________جزء: 1 /صفحہ: 276__________

227) من
طريق سليمان بن المغيرة حدثنا ثابت به المرفوع فقط نحوه. وهو رواية لأحمد
(4 / 332، 333، 6 / 15) .
وله شاهد من حديث سعد بن أبي وقاص مرفوعا نحوه. أخرجه الطيالسي (211)
بإسناد صحيح. وله شاهد آخر مختصر بلفظ:
" عجبا للمؤمن لا يقضي الله له شيئا إلا كان خيرا له ".