حدیث نمبر: 1754
- " بعثت إلى أهل البقيع أصلي عليهم ".
حافظ محفوظ احمد

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات کو گھر سے نکلے ، میں نے بریرہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بھیج دیا تاکہ وہ دیکھ سکے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہاں جا رہے ہیں ۔ اس نے واپس آ کر مجھے بتلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع الغرقد (ایک قبرستان) کی طرف گئے ، وہاں بقیع کی نشیبی جگہ میں کھڑے ہو گئے ، پھر ہاتھ اٹھا کر (دعا مانگی) اور واپس پلٹ آئے ۔ بوقت صبح میں نے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کہ گزشتہ رات آپ کہاں چلے گئے تھے ؟ آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : ” مجھے بقیع قبرستان والوں کے حق میں دعائے رحمت کرنے کے لئے ان کی طرف بھیجا گیا۔ “

حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / المرض والجنائز والقبور / حدیث: 1754
- " بعثت إلى أهل البقيع أصلي عليهم ".
_____________________

أخرجه أحمد (6 / 92) عن عبد العزيز بن محمد عن علقمة بن أبي علقمة عن أمه عن
عائشة أنها قالت: " خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات ليلة، فأرسلت
بريرة في أثره لتنظر أين ذهب، قالت: فسلك نحو بقيع الغرقد، فوقف في أدنى
البقيع، ثم رفع يديه، ثم انصرف، فرجعت إلي بريرة، فأخبرتني، فلما أصبحت
سألته؟ فقلت: يا رسول الله أين خرجت الليلة؟ قال: فذكره. وتابعه مالك في
" الموطأ " (1 / 242 / 55) وعنه النسائي (1 / 287) .
قلت: وهذا إسناد لا بأس به في الشواهد، فإن أم علقمة واسمها مرجانة قد روى
عنها أيضا غير ابنها، بكير بن الأشج، وقال العجلي في " الثقات " (68 / 2
مصورة المكتب): " مدنية تابعية ثقة ". وقد تابعها على أصل القصة محمد بن
قيس بن مخرمة بن المطلب عن عائشة به
__________جزء: 4 /صفحہ: 376__________

مطولا، مع اختلاف في بعض الأحرف، وفيه
أن جبريل عليه السلام قال له صلى الله عليه وسلم: " إن ربك يأمرك أن تأتي أهل
البقيع فتستغفر لهم ". أخرجه مسلم (3 / 63 - 64) والنسائي (1 / 286 - 287
) وأحمد (6 / 221) . فقوله: " فتستغفر لهم " يبين أن قوله في رواية علقمة:
" لأصلي عليهم " ليس المراد صلاة الجنازة، وإنما الدعاء لهم والاستغفار.