سلسله احاديث صحيحه
المرض والجنائز والقبور— بیماری، نماز جنازہ، قبرستان
باب: فاتحہ شریف پڑھ کر دم کرنا اور دم پر اجرت لینا
- " كل، فلعمري لمن أكل برقية باطل، لقد أكلت برقية حق ".خارجہ بن صلت اپنے چچا سیدنا علاقہ بن صحار سے روایت کرتے ہیں کہ وہ ایک قوم کے پاس سے گزرے ، اس قوم کے لوگ ان کے پاس آئے اور کہا کہ تو اس شخصیت (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس سے خیر و بھلائی لے کر آیا ہے ، ہمارے اس آدمی کو دم تو کر دے ۔ پھر وہ بیڑیوں میں بندھا ہوا ایک آدمی لائے ۔ میرے چچا نے ”ام القرآن“ (یعنی سورہ فاتحہ) پڑھ کر صبح شام تین دفعہ دم کیا ، یہ سورت پڑھ کر تھوک جمع کر کے اس پر تھوک دیتے ۔ (وہ ایسا شفایاب ہوا کہ) گویا کہ اسے رسیوں سے کھول کر آزاد کر دیا گیا ۔ انہوں نے (اس دم کے عوض) انہیں کچھ دیا ۔ میرے چچا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس (معاوضے ) کے بارے میں دریافت کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تو کھا لے ، میری عمر کی قسم ! اس آدمی کے بارے میں کچھ کہا جائے گا جو باطل دم کے ذریعے کھائے ، تو نے تو حق دم کے ساتھ کھایا ہے ۔“
_____________________
أخرجه أبو داود (3420، 3896، 3897) والنسائي في " عمل اليوم والليلة " (
1032) وعنه ابن السني (رقم 624) والطحاوي في " شرح المعاني " (2 / 269)
والحاكم (1 / 559 - 560) والطيالسي (1362) وأحمد (5 / 210 - 211) من
طريق الشعبي عن خارجة بن الصلت عن عمه:
__________جزء: 5 /صفحہ: 44__________
" أنه مر بقوم فأتوه، فقالوا: إنك
جئت من عند هذا الرجل بخير، فارق لنا هذا الرجل، فأتوه برجل معتوه في القيود
، فرقاه بأم القرآن ثلاثة أيام غدوة وعشية، كلما ختمها جمع بزاقه ثم تفل،
فكأنما أنشط من عقال، فأعطوه شيئا، فأتى النبي صلى الله عليه وسلم، فذكره له
، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: " فذكره. وقال الحاكم: " صحيح الإسناد،
ووافقه الذهبي.
قلت: وهو كما قالا إن شاء الله، فإن رجاله ثقات رجال الشيخين غير خارجة بن
الصلت، فروى عنه مع الشعبي عبد الأعلى بن الحكم الكلبي، وذكره ابن حبان في
" الثقات "، لكن قال ابن أبي خيثمة: " إذا روى الشعبي عن رجل وسماه فهو ثقة
، يحتج بحديثه ". ذكره الحافظ في " التهذيب " وأقره، وكأنه لذلك قال الذهبي
في " الكاشف ": " ثقة ".