حدیث نمبر: 1712
- " إذا حضر المؤمن أتته ملائكة الرحمة بحريرة بيضاء، فيقولون: اخرجي راضية مرضيا عنك إلى روح الله وريحان ورب غير غضبان، فتخرج كأطيب ريح المسك، حتى إنه ليناوله بعضهم بعضا، حتى يأتون به باب السماء، فيقولون: ما أطيب هذه الريح التي جاءتكم من الأرض! فيأتون به أروح المؤمنين، فلهم أشد فرحا به من أحدكم بغائبه يقدم عليه، فيسألونه: ماذا فعل فلان؟ ماذا فعل فلان؟ فيقولون : دعوه فإنه كان في غم الدنيا، فإذا قال: أما أتاكم؟ قالوا: ذهب به إلى أمه الهاوية. وإن الكافر إذا احتضر أتته ملائكة العذاب بمسح، فيقولون: اخرجي ساخطة مسخوطا عليك إلى عذاب الله عز وجل، فتخرج كأنتن ريح جيفة حتى يأتون به باب الأرض، فيقولون: ما أنتن هذه الريح! حتى يأتون به أرواح الكفار ".
حافظ محفوظ احمد

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب مومن کی موت کا وقت آتا ہے تو فرشتے ریشم کا سفید کپڑا لے کر آتے ہیں اور کہتے ہیں : (اے روح ! ) اللہ تعالیٰ کی رحم و مہربانی کی طرف اور ایسے رب کی طرف نکل جو غصے میں نہیں ہے ، اس حال میں کہ تو بھی خوش ہے اور تیرا رب بھی تجھ پر خوش ہے ۔ جب وہ روح نکلتی ہے تو کستوری کی پاکیزہ ترین خوشبو آتی ہے ، فرشتے اسے وصول کر کے ایک دوسرے کو تھماتے رہتے ہیں ، یہاں تک کہ آسمان کے دراوازے تک پہنچ جاتے ہیں ۔ آسمان کے فرشتے کہتے ہیں : کتنی پیاری خوشبو ہے جو زمین کی طرف سے آئی ہے ۔ فرشتے اس روح کو مومنوں کی ارواح میں لے جاتے ہیں ۔ اس کی آمد سے انہیں بہت خوشی ہوتی ہے جیسے پردیسی کے آنے سے ہم خوش ہوتے ہیں، پہلے سے موجود روحیں اس روح سے سوال کرتی ہیں : فلاں کیسے تھا ؟ فلاں کی سنائیں ؟ وہ جواب دیتی ہے : اسے چھوڑئیے ، وہ تو دنیوی فکر و غم میں مبتلا تھا۔ ( اور فلاں تو مجھ سے پہلے مر چکا تھا کیا اس کی روح) تمہارے پاس نہیں آئی ؟ وہ کہتی ہیں : (نہیں ، اور یہاں نہ پہنچنے کا مطلب یہ ہوا کہ) وہ اپنے ٹھکانے ”ہاویہ“ (جہنم) میں پہنچ چکی ہے ۔ (مومن کے برعکس) جب کافر کی موت کا وقت آتا ہے تو عذاب والے فرشتے ایک ٹاٹ لے کر آتے ہیں اور کہتے ہیں : (اے روح ! ) اللہ کے عذاب کی طرف نکل ، اس حال میں کہ تو بھی ناپسند کر رہی ہے اور تیرا رب بھی تجھ سے ناراض ہے ، بہرحال وہ نکلتی ہے اور اس سے سڑی ہوئی لاش کی طرح کی بدترین بدبو آتی ہے ، فرشتے اسے وصول کر کے زمیں کے دروازے پر لے جاتے ہیں اور کفار کی ارواح میں پہنچا دیتے ہیں ۔ (راستے میں ملنے والے ) فرشتے کہتے ہیں : کتنی بدترین بدبو ہے !“

حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / المرض والجنائز والقبور / حدیث: 1712
- " إذا حضر المؤمن أتته ملائكة الرحمة بحريرة بيضاء، فيقولون: اخرجي راضية مرضيا عنك إلى روح الله وريحان ورب غير غضبان، فتخرج كأطيب ريح المسك، حتى إنه ليناوله بعضهم بعضا، حتى يأتون به باب السماء، فيقولون: ما أطيب هذه الريح التي جاءتكم من الأرض! فيأتون به أروح المؤمنين، فلهم أشد فرحا به من أحدكم بغائبه يقدم عليه، فيسألونه: ماذا فعل فلان؟ ماذا فعل فلان؟ فيقولون: دعوه فإنه كان في غم الدنيا، فإذا قال: أما أتاكم؟ قالوا: ذهب به إلى أمه الهاوية. وإن الكافر إذا احتضر أتته ملائكة العذاب بمسح، فيقولون: اخرجي ساخطة مسخوطا عليك إلى عذاب الله عز وجل، فتخرج كأنتن ريح جيفة حتى يأتون به باب الأرض، فيقولون: ما أنتن هذه الريح! حتى يأتون به أرواح الكفار ".
_____________________

أخرجه النسائي (1 / 260) وابن حبان (733) والحاكم (1 / 352 و 353) من
طريق قتادة عن قسامة بن زهير عن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال
: فذكره. وقال الحاكم:
" صحيح الإسناد ". ووافقه الذهبي وهو كما قالوا.