سلسله احاديث صحيحه
المرض والجنائز والقبور— بیماری، نماز جنازہ، قبرستان
باب: انبیاء اور صلحا پر آزمائش سخت ہوتی ہے
- " أشد الناس بلاء الأنبياء، ثم الصالحون، إن كان أحدهم ليبتلى بالفقر، حتى ما يجد أحدهم إلا العباءة التي يحويها، وإن كان أحدهم ليفرح بالبلاء كما يفرح أحدكم بالرخاء ".سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا ، آپ شدید بخار میں مبتلا تھے ، میں نے اپنا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر رکھا لحاف کے اوپر سے مجھے حرارت محسوس ہوئی ۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ کو اتنا سخت بخار ہے ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہمارے حق میں جہاں آزمایش دو گنا ہوتی ہے وہاں اجر بھی دو گنا ہوتا ہے ۔ “ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کن لوگوں پر آزمائش سب سے سخت ہوتی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انبیاء پر اور ان کے بعد نیکوکار لوگوں پر ، بسا اوقات ان پر فکر و فاقہ کی ایسی کڑی آزمائش پڑتی ہے کہ جسم ڈھانپنے کے لیے ایک چوغہ کے علاوہ کسی چیز کے مالک نہیں ہوتے ، لیکن یہ لوگ ابتلا و امتحان پر اتنے ہی خوش ہوتے ہیں جتنا کہ لوگ فراخی و خوشحالی پر خوش رہتے ہو ۔ “
_____________________
أخرجه ابن ماجه (4024) وابن سعد (2 / 208) والحاكم (4 / 307) من طريق
هشام بن سعد عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن أبي سعيد الخدري قال:
" دخلت على النبي صلى الله عليه وسلم وهو يوعك، فوضعت يدي عليه، فوجدت حره
بين يدي فوق اللحاف، فقلت: يا رسول الله! ما أشدها عليك! قال: إنا كذلك،
يضعف لنا البلاء، ويضعف لنا الأجر. قلت: يا رسول الله! أي الناس أشد
بلاء؟ قال: الأنبياء،
__________جزء: 1 /صفحہ: 274__________
قلت: يا رسول الله! ثم من قال: ثم الصالحون،
إن كان ... ". الحديث.
وقال الحاكم: " صحيح على شرط مسلم ". ووافقه الذهبي، وهو كما قالا.
وله شاهد آخر مختصر وهو:
" إن من أشد الناس بلاء الأنبياء، ثم الذين يلونهم، ثم الذين يلونهم، ثم
الذين يلونهم ".