سلسله احاديث صحيحه
المرض والجنائز والقبور— بیماری، نماز جنازہ، قبرستان
باب: بیماری پر صبر کرنے کی فضیلت
- " إن الله تعالى يقول: إذا ابتليت عبدا من عبادي مؤمنا، فحمدني وصبر على ما ابتليته به، فإنه يقوم من مضجعه ذلك كيوم ولدته أمه من الخطايا، ويقول الرب للحفظة: إني أنا قيدت عبدي هذا وابتليته، فأجروا (له) من الأجر ما كنتم تجرون له قبل ذلك وهو صحيح ".ابو اشعث صنعانی کہتے ہیں : میں مسجد دمشق کی طرف گیا اور اول وقت میں گیا ، مجھے شداد بن اوس رضی اللہ عنہ ملے ، ان کے ساتھ صنابحی بھی تھے ۔ میں نے ان سے پوچھا : اللہ تم پر رحم کرے ، کہاں کا ارادہ ہے ؟ انہوں نے کہا : ہم اپنے ایک بھائی کی تیمارداری کرنے کے لیے جا رہے ، ( یہ سن کر ) میں بھی ان کے ساتھ چل دیا ۔ ہم اس مریض کے پاس پہنچ گئے ۔ ان دونوں نے اس سے پوچھا : حالات کیسے ہیں ؟ اس نے جواب دیا : اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے ۔ سیدنا شداد رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : جب میں اپنے مومن بندے کو آزماتا ہوں اور وہ میری تعریف کرتے ہوئے میری آزمائش پر صبر کرتا ہے تو ( شفا یاب ہو کر ) اپنے بستر سے اس دن کی طرح گناہ سے پاک ہو کر اٹھتا ہے جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا ۔ مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ اعمال لکھنے والے فرشتوں سے فرماتے ہیں : میں نے اپنے اس بندے کو پابند کر لیا ہے اور اسے آزما رہا ہوں ، تم اس کی تندرستی کی حالت میں اس کے ( اعمال پر ) جو جو لکھتے تھے اس کو برقرار رکھو ( اگرچہ یہ عمل نہیں کر رہا ) ۔ “
_____________________
أخرجه أحمد (4 / 123) وأبو نعيم في " الحلية " (9 / 309 - 310) وابن
عساكر في " التاريخ " (8 / 8 / 2) عن إسماعيل بن عياش عن راشد بن داود عن أبي
الأشعث الصنعاني أنه راح إلى مسجد دمشق وهجر بالرواح، فلقي شداد بن أوس
والصنابحي معه،
¬
__________
(¬1) كذا الأصل، وكذلك هو في نقل " المجمع " (7 / 244) عنه، والكلام غير
متصل. اهـ.
__________جزء: 5 /صفحہ: 20__________
فقلت: أين تريدان رحمكما الله؟ فقالا: نريد ههنا، إلى أخ
لنا مريض نعوده، فانطلقت معهما حتى دخلنا على ذلك الرجل، فقالا له: كيف
أصبحت؟ قال أصبحت بنعمة الله وفضله، فقال شداد: أبشر فإني سمعت رسول الله
صلى الله عليه وسلم يقول: فذكره.
قلت: وهذا إسناد حسن إن شاء الله تعالى رجاله ثقات وفي راشد بن داود - وهو
الصنعاني الدمشقي - خلاف، وثقه ابن معين ودحيم وابن حبان. وقال البخاري:
" فيه نظر ". وقال الدارقطني: " ضعيف لا يعتبر به ". وقال الحافظ في
" التقريب ": " صدوق له أوهام ".
قلت: فمثله حسن الحديث إذا لم يرو منكرا، وهذا الحديث له شواهد معروفة وقد
مضى بعضها فانظر مثلا الحديث (272) .
(تنبيه): قال المناوي: قال الهيثمي: " خرجه الكل من رواية إسماعيل بن عياش
عن راشد الصنعاني، وهو ضعيف عن غير الشاميين. اهـ.
ولم يبال المصنف بذلك فرمز لحسنه ".
قلت: وقد فات الهيثمي ثم المناوي أن راشدا هذا ليس من صنعاء اليمن، وإنما
هو من صنعاء دمشق، ولذلك ذكروا أنه دمشقي، فإعلال الحديث بما ذكروا وهم محض
، فتنبه.