حدیث نمبر: 1669
- " لا تسبي الحمى، فإنها تذهب خطايا بني آدم كما يذهب الكير خبث الحديد ".
حافظ محفوظ احمد

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام سائب یا ام مسیب کے پاس آئے اور پوچھا : ” ام سائب ! تجھے کیا ہو گیا ہے ؟ کانپ رہی ہو ۔ “ انہوں نے جواب دیا : بخار ہے ، اللہ اس کو بے برکتا کر دے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بخار کو برا بھلا مت کہہ ، یہ تو بنی آدم کے گناہوں کو اس طرح صاف کر دیتا ہے جیسے دھونکنی لوہے کی کھوٹ کو دور کر دیتی ہے ۔ “

حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / المرض والجنائز والقبور / حدیث: 1669
- " لا تسبي الحمى، فإنها تذهب خطايا بني آدم كما يذهب الكير خبث الحديد ".
_____________________

أخرجه مسلم (8 / 16) والبخاري في " الأدب المفرد " (516) والبيهقي (3 /
377) من طريق أبي الزبير، حدثنا جابر بن عبد الله: " أن رسول الله صلى
الله عليه وسلم دخل على أم السائب أو أم المسيب، فقال: مالك يا أم السائب أو
يا أم المسيب تزفزفين؟ قالت: الحمى لا بارك الله فيها، فقال: ... " فذكره.
ورواه ابن ماجه (2 / 348) من حديث أبي هريرة مرفوعا نحوه دون القصة.
وفيه موسى بن عبيدة ضعيف.