حدیث نمبر: 5918
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عَمَّارٍ ، قَالَ : كُنَّا فِي الْحَمَّامِ قُبَيْلَ الأَضْحَى ، فَإِذَا أُنَاسٌ قَدِ اطَّلَوْا ، فَقَالَ بَعْضُ مَنْ فِي الْحَمَّامِ : إِنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يَكْرَهُ هَذَا وَيَنْهَى عَنْهُ ، قَالَ : فَلَقِيتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ ابْنَ أَخِي : إِنَّ هَذَا حَدِيثٌ قَدْ نُسِيَ ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ وَعِنْدَ أَحَدِكُمْ ذِبْحٌ يُرِيدُ أَنْ يَذْبَحَهُ ، فَلْيُمْسِكْ عَنْ شَعْرِهِ وَأَظْفَارِهِ " .
عمر بن مسلم بیان کرتے ہیں: ہم لوگ عیدالاضحیٰ سے کچھ عرصہ پہلے حمام میں موجود تھے وہاں کچھ لوگوں نے بال صاف کرنے کی تیاری کی تو حمام میں موجود ایک شخص نے کہا: سعید بن مسیّب نے اس بات کو مکروہ قرار دیا ہے اور وہ اس سے منع کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: میری ملاقات سعید بن مسیّب سے ہوئی میں نے ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا: اے میرے بھتیجے اس حدیث کو بھلا دیا گیا ہے۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ بات بتائی ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ” جب (ذوالحجہ کا پہلا) عشرہ شروع ہو جائے اور تم میں سے کسی کے پاس قربانی کا جانور ہو جسے قربان کرنے کا اس کا ارادہ ہو تو اسے (قربانی کرنے تک) اپنے بال اور ناخن نہیں کاٹنے چاہئیں۔ “