کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - ذکر خبر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ قربانی کا استعمال فرض نہیں ہے
حدیث نمبر: 5915
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أن رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِكَبْشٍ أَقْرَنَ يَطَأُ فِي سَوَادٍ ، وَيَنْظُرُ فِي سَوَادٍ ، وَيَبْرُكُ فِي سَوَادٍ ، فَأَتَى بِهِ لِيُضَحِّيَ بِهِ ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَائِشَةُ ، هَلُمِّي الْمُدْيَةَ " ، ثُمَّ قَالَ : " حُدِّيهَا بِحَجَرٍ " ، فَفَعَلْتُ ، فَأَخَذَهَا وَأَخَذَ الْكَبْشَ ، فَأَضْجَعَهُ ، ثُمَّ ذَبَحَهُ ، وَقَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ ، اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ ، مِنْ مُحَمَّدٍ ، وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَمِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ " ، ثُمَّ ضَحَّى بِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک سینگوں والا مینڈھا لایا گیا جس کے پاؤں، آنکھوں اور پیٹھ کے قریب سیاہ نشان تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے تاکہ اسے قربان کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عائشہ! چھری پکڑاؤ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: اسے پتھر پر تیز کر لو میں نے ایسا ہی کیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چھری کو لیا اس مینڈھے کو پکڑا اسے لٹایا اور ذبح کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اے اللہ میں تیرے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے محمد، محمد کے گھر والوں اور محمد کی امت کی طرف سے (اسے قربان کر رہا ہوں) “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قربان کر دیا۔