کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - ذکر بیان کہ ابو بردہ کو اس کی قربانی قبل از نماز کے جواز کی خصوصیت دی گئی تھی لیکن اسے حکم دیا گیا کہ وہ دوبارہ نماز کے بعد قربانی کرے
حدیث نمبر: 5911
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ وَهْبًا السُّوَائِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنَّ خَالِيَ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " شَاتُكَ شَاةُ لَحْمٍ ، وَلَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَعِنْدِي عَنَاقٌ جَذَعَةٌ هِيَ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تُوفِي عَنْكَ ، وَلا تُوفِي عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ " .
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرے ماموں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز ادا کرنے سے پہلے ہی جانور ذبح کر لیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہاری بکری صرف گوشت والی بکری ہے اس کا قربانی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! میرے پاس ایک چھ ماہ کا بکری کا بچہ ہے جو ایک سال کے جانور سے بہتر ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ تمہاری طرف سے کافی ہو گا، لیکن تمہارے بعد کسی کی طرف سے کافی نہیں ہو گا۔