کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - ذکر بیان کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بردہ کی قبل از نماز قربانی کو جائز قرار دیا اور اس کے بعد کسی کے لیے اس جیسا کرنے کی اجازت نفی کی سوائے اس کے کہ اس کی مقررہ جگہ پر ہو، خواہ اس کا مقصد رہنمائی اور ترغیب ہو
حدیث نمبر: 5909
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى بِالْمَوْصِلِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلا ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يُجْزِئُ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ أَنْ يَذْبَحَ حَتَّى يُصَلِّيَ " .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز عید ادا کرنے سے پہلے جانور ذبح کر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارے بعد یہ کسی کے لیے جائز نہیں ہو گا کہ وہ نماز ادا کرنے سے پہلے جانور ذبح کرے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الأضحية / حدیث: 5909
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - يشهد له ما بعده. * [أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى] قال الشيخ: أخرجه في «مُسنده» (3/ 316)، وقال المُعَلِّقُ عليه: «رجاله رجال الصحيح»؛ فأصاب. وقال في تعليقه على «الموارد» (3/ 381): «إسناده صحيح»! فأخطأ؛ لأنَّهُ غَفَلَ عن عَنْعَنَةِ ابن جُريجٍ وأبي الزُّبَير. نعم؛ الحديث صحيحٌ بِمَا بعدَه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5879»