کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - ذکر بیان کہ ابو بردہ کی قربانی قبل از نماز اس کے بیٹے کی طرف سے تھی نہ کہ اس کی اپنی طرف سے
حدیث نمبر: 5908
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنِي فِرَاسٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، أن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ وَجَّهَ قِبْلَتَنَا ، وَصَلَّى صَلاتَنَا ، وَنَسَكَ نُسُكَنَا ، فَلا يَذْبَحْ حَتَّى يُصَلِّيَ " ، فَقَالَ خَالِي أَبُو بُرْدَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي نَسَكْتُ عَنِ ابْنٍ لِي ، قَالَ : " ذَاكَ شَيْءٌ عَجَّلْتَهُ لأَهْلِكَ " ، قَالَ : فَإِنَّ عِنْدِيَ جَذَعَةً ، قَالَ : " ضَحِّ بِهَا عَنْهُ ، فَإِنَّهَا خَيْرُ نُسُكِهِ " .
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” جو شخص ہمارے قبلہ کی طرف رخ کرے ہماری نماز کی طرح نماز ادا کرتا ہے ہماری قربانی کی طرح قربانی کرتا ہے وہ نماز ادا کرنے سے پہلے قربانی نہ کرے تو میرے ماموں سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! میں نے تو اپنے بیٹے کی طرف سے قربانی کر لی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک ایسی چیز ہے جسے تم نے اپنے اہل خانہ کے لیے جلدی تیار کر لیا ہے۔ انہوں نے عرض کی: میرے پاس ایک چھ ماہ کا بچہ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے تم اس کی طرف سے قربان کر لو کیونکہ یہ بہترین قربانی ہے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الأضحية / حدیث: 5908
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (4/ 367)، «صحيح الموارد» (877/ 1053): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5878»