کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - ذکر خبر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہ امر تعلیم کا تھا جب مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو عید کے لیے صحرا میں لے جا کر سکھایا کہ قربانی کیسے کی جائے، نہ کہ یہ امر وجوب اور لازمی تھا
حدیث نمبر: 5907
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْهَيْثَمِ بِبَلَدَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، وَزُبَيْدٌ ، وَدَاوُدُ ، وَابْنُ عَوْنٍ ، ومجالد ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، وَهَذَا حَدِيثُ زُبَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ سَارِيَةِ الْمَسْجِدِ ، فَلَوْ كُنْتُ ثَمَّ لأَخْبَرْتُكُمْ بِمَوْضِعِهَا ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ ، ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا ، وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ ذَلِكَ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ قَدَّمَهُ لأَهْلِهِ ، لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ " ، قَالَ : وَذَبَحَ خَالِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي ذَبَحْتُ ، وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ ، قَالَ : " اجْعَلْهَا مَكَانَهَا ، وَلا تُجْزِئُ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ " .
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ مسجد کے ستون کے پاس موجود تھے اگر میں اس وقت (مسجد نبوی میں) ہوتا تو میں تمہیں اس کی جگہ بتاتا۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ” آج کے دن ہم سب سے پہلے نماز عید ادا کریں گے پھر ہم واپس جا کر قربانی کریں گے جو شخص ایسا کرے گا وہ ہمارے طریقے پر عمل پیرا ہو گا اور جو شخص اس سے پہلے قربانی کر چکا ہو تو یہ صرف ایک گوشت ہے جو اس نے اپنے اہل خانہ کے لیے تیار کیا ہے اس کا مذہبی قربانی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرے ماموں سیدنا ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ پہلے ہی جانور ذبح کر چکے تھے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! میں تو پہلے ہی ذبح کر چکا ہوں اب میرے پاس چھ ماہ کا بچہ ہے جو ایک سال کے بچے سے بہتر ہوتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے تم اس کی جگہ کر لو لیکن تمہارے بعد یہ کسی کے لیے جائز نہیں ہو گا۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الأضحية / حدیث: 5907
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5877»