کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - ذکر لفظ جہل کہ اس کی تاویل میں وہ ناکام رہتا ہے جو حدیث کی صنعت میں ماہر نہ ہو
حدیث نمبر: 5906
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي يَوْمِ عِيدٍ : " أَوَّلُ مَا نَبْدَأُ يَوْمَنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ ثُمَّ نَنْحَرَ ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ ، فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا ، وَمَنْ تَعَجَّلَ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ قَدَّمَهُ لأَهْلِهِ " ، قَالَ : وَكَانَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاةِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ عِنْدِيَ جَذَعَةً خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ ، قَالَ : " اجْعَلْهَا مَكَانَهَا ، وَلَنْ تُجْزِئَ أَوْ تُوُفِّيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ " .
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن ارشاد فرمایا: ” آج کے دن ہم سب سے پہلے نماز عید ادا کریں گے پھر ہم قربانی کریں گے جو شخص جیسا کرے گا اس نے سنت کے مطابق عمل کیا اور جس شخص نے جلدی کر لی تھی، تو یہ صرف ایک گوشت ہے جو اس نے اہل خانہ کے لیے تیار کیا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نماز عید سے پہلے قربانی کر چکے تھے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! میرے پاس تو ایک چھ ماہ کا بچہ ہے جو ایک سال کے بچے سے بہتر ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے تم اس کی جگہ قربان کر لو لیکن تمہارے بعد یہ کسی کے لیے جائز (راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں) کافی نہیں ہو گا۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الأضحية / حدیث: 5906
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (4/ 366 - 367)، «صحيح أبي داود» (2495): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5876»