کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - ذکر اجازت کہ انسان اپنی قربانی میں بکری کا جذع ذبح کرے
حدیث نمبر: 5904
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ الأَشَجِّ ، حَدَّثَهُ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيَّ حَدَّثَهُ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : " ضَحَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَذَعَ مِنَ الضَّأْنِ " .
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں قربانی کرتے ہوئے چھ ماہ کی بھیڑ کی بھی قربانی کی تھی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الأضحية / حدیث: 5904
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (4/ 357)، «الضعيفة» تحت الحديث (65). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5874»
حدیث نمبر: 5905
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبِجَ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ نِيَارٍ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الأَضْحَى ، فَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ أُضْحِيَّةً أَخِّرِي ، قَالَ أَبُو بُرْدَةَ : لا أَجِدُ إِلا جَذَعًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَإِنْ لَمْ تَجِدْ إِلا جَذَعًا ، فَاذْبَحْهُ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَمْرُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِعَادَةِ الأُضْحِيَّةِ أَمْرُ نَدْبٍ قَصَدَ بِهِ التَّعْلِيمَ ، إِذِ النَّسِيكَةُ لا يَكُونُ فَضْلُهَا إِلا لِمَنْ ذَبْحَهَا بَعْدَ الصَّلاةِ ، فَمَا كَانَ مِنْهَا قَبْلَ الصَّلاةِ فَفِيهِ الْفَضْلُ لا فَضْلَ النَّسِيكَةِ ، لأَنَّ الشَّيْءَ إِذَا جُعِلَ لِفَضْلِ الْوَقْتِ ثُمَّ نُدِبَ إِلَيْهِ ، لَوْ قَدَّمَهُ الإِنْسَانُ عَنْ وَقْتِهِ لَمْ يَجِدْ ذَلِكَ الْفَضْلَ الَّذِي وُعِدَ عَلَى ذَلِكَ الْفَضْلِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ الْوَقْتِ ، وَإِنْ لَمْ يَعْدَمِ الْفَضْلَ فِي ذَلِكَ الْفِعْلِ الْمُقَدَّمِ عَنْ وَقْتِهِ ، وَنَظِيرُ هَذَا أَنَّ صَلاةَ الضُّحَى نُدِبَ إِلَيْهَا لِوَقْتِ الضُّحَى ، فَلَوْ صَلَّى إِنْسَانٌ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ يُرِيدُ بِهِ صَلاةَ الضُّحَى لَمْ يُؤْجَرْ عَلَيْهِ أَجْرَ صَلاةِ الضُّحَى ، وَإِنْ كَانَ الْفَضْلُ مَوْجُودًا فِي صَلاتِهِ تِلْكَ .
سیدنا ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عید قربان کے دن ذبح کرنے سے پہلے اپنا جانور ذبح کر لیا۔ سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ دوسری قربانی کریں۔
سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: مجھے تو صرف چھ ماہ کا بچہ ملتا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تمہیں صرف چھ ماہ کا بچہ ملتا ہے تو تم اسے ہی ذبح کر دو۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دوبارہ قربانی کرنے کا حکم دینا یہ استحباب کے طور پر تھا اور اس کے ذریعے مراد تعلیم دینا تھا کیونکہ قربانی کی فضیلت اس وقت حاصل ہوتی ہے جو شخص نماز عید ادا کرنے کے بعد اسے ذبح کرتا ہے جو شخص نماز عید سے پہلے قربانی کر لیتا ہے تو اس میں فضیلت تو ہے لیکن قربانی کی فضیلت نہیں ہے کیونکہ جب کسی چیز کو کسی خاص وقت کے ساتھ مخصوص کیا گیا ہو اور پھر اسے اس بارے میں مستحب قرار دیا گیا ہو تو اگر آدمی اس مخصوص وقت سے پہلے وہ کام کرے تو اسے اس عمل کی وہ فضیلت حاصل نہیں ہوتی جو اس مخصوص وقت میں کرنے کی فضیلت کا وعدہ کیا گیا ہے اگرچہ وقت سے پہلے کیے جانے والے اس فعل کی فضیلت مطلق طور پر بھی معدوم نہیں ہوتی اس کی مثال یہ ہے چاشت کی نماز کے لیے مستحب یہ قرار دیا گیا ہے اسے چاشت کے وقت ادا کیا جائے اگر کوئی شخص رات کے وقت چاشت کی نماز کے طور پر کوئی نماز ادا کر لیتا ہے تو اسے چاشت کی نماز کا اجر نہیں ملے گا، لیکن اسے وہ نماز پڑھنے کا اجر ملے گا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الأضحية / حدیث: 5905
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح الإسناد - وقصته في حديث البراء الآتي بعده. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5875»