کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: سماع (گانے بجانے وغیرہ) کے بیان میں ایک فصل - ذکر بیان کہ انصار جو گانا گاتے تھے وہ غزل نہ تھا جس کا ذکر کرنا جائز نہ ہو
حدیث نمبر: 5878
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ ، قَالَتْ : جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ عَلَيَّ صَبِيحَةَ عُرْسِي ، فَجَلَسَ عَلَى فِرَاشِي كَمَجْلِسِكَ مِنِّي ، فَجَعَلَتْ جُوَيْرِيَاتٌ لَنَا يَضْرِبْنَ بِدُفٍّ لَهُنَّ ، وَيَنْدُبْنَ مَنْ قُتِلَ مِنْ آبَائِي يَوْمَ بَدْرٍ إِلَى أَنْ قَالَتْ إِحْدَاهُنَّ : وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعِي هَذَا وَقُولِي مَا كُنْتِ تَقُولِينَ " .
سیده ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری شادی کی صبح ہمارے ہاں آئے تو میرے بستر پر تشریف فرما ہوئے جس طرح تم میرے پاس بیٹھے ہوئے ہو تو انصار کی کچھ لڑکیاں دف بجا رہی تھیں اور غزوہ بدر کے موقع پر شہید ہونے والے اپنے آباؤ اجداد کی تعریفیں کر رہی تھیں ان میں سے ایک لڑکی نے یہ مصرع بھی پڑھ دیا۔ ” ہمارے درمیان ایک ایسا نبی موجود ہے جو کل جو کچھ ہونا ہے اس کے بارے میں بھی جانتا ہے۔ “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسے چھوڑ دو اور وہی گاؤ جو پہلے گا رہی تھیں۔