کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: سماع (گانے بجانے وغیرہ) کے بیان میں ایک فصل - ذکر بیان کہ ہمارے بیان کردہ گانے سے مراد وہ اشعار تھے جو جاہلیت کے دنوں میں کہے گئے اور انہیں پڑھا جاتا تھا اور ان دنوں کو یاد کیا جاتا تھا، نہ کہ وہ گانا جو غزل سے ہو اور اس کے کہنے والے سے اللہ جل وعلا کی ناراضی قریب کرے
حدیث نمبر: 5877
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمَذَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْهَبَّارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو بَكْرٍ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ مِنْ جَوَارِي الأَنْصَارِ ، تُغَنِّيَانِ بِمَا تَقَاوَلَتِ الأَنْصَارُ يَوْمَ بُعَاثٍ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَمِزْمَارُ الشَّيْطَانِ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ وَذَلِكَ فِي يَوْمِ عِيدٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا بَكْرٍ ، إِنَّ لِكُلَّ قَوْمٍ عِيدًا ، وَهَذَا عِيدُنَا " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے ہاں تشریف لائے اس وقت میرے پاس انصار کی دو لڑکیاں بیٹھی ہوئی گانا گا رہی تھیں جو جنگ بعاث کے موقع پر انصار کے طرز عمل کے بارے میں تھا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں شیطان کے آلات موجود ہیں؟ یہ عید کے دنوں کی بات ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر! ہر قوم کی ایک مخصوص عید ہوتی ہے اور یہ ہماری عید ہے۔