کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: سماع (گانے بجانے وغیرہ) کے بیان میں ایک فصل - ذکر خبر جو غیر فقہ رکھنے والے کے لیے دلیل میں وہم پیدا کرتی ہے جو صحیح آثار میں تفقه نہ کرے اور اخبار کے طریقوں میں پوری کوشش نہ کرے
حدیث نمبر: 5875
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ الزُّهْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمِّي ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ فِي حِجْرِي جَارِيَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ ، فَزَوَّجْتُهَا ، قَالَتْ : فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عُرْسِهَا ، فَلَمْ يَسْمَعْ غِنَاءً وَلا لَعِبًا ، فَقَالَ : يَا عَائِشَةُ ، " هَلْ غَنَّيْتُمْ عَلَيْهَا ؟ أَوَلا تُغَنُّونَ عَلَيْهَا ؟ " ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنَ الأَنْصَارِ يُحِبُّونَ الْغِنَاءَ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک انصاری لڑکی میری زیر پرورش تھی میں نے اس کی شادی کروا دی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی شادی کے دن میرے ہاں تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گانے وغیرہ کی کوئی آواز سنائی نہیں دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! کیا تم نے اس کی شادی کے لیے گانا وغیرہ نہیں گایا؟ کیا تم لوگ اس پر گانا نہیں گاؤ گی؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انصار گانے کو پسند کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحظر والإباحة / حدیث: 5875
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «الضعيفة» (5745). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5845»