کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: تصویروں اور مصوروں کا بیان - ذکر وجہ جس کی بنا پر گھروں میں تصاویر بنانے سے منع کیا گیا
حدیث نمبر: 5845
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ ، فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى الْبَابِ فَلَمْ يَدْخُلْ ، فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهِيَةَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ ، وَإِلَى رَسُولِهِ ، فَمَاذَا أَذْنَبْتُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَمَا بَالُ هَذِهِ النُّمْرُقَةِ ؟ " فَقَالَتِ : اشْتَرَيْتُهَا لَكَ ، تَقْعُدُ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدُهَا ، فَقَالَ : " إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيُقَالُ لَهُمْ : أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ " ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّوَرُ لا تَدْخُلُهُ الْمَلائِكَةُ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ هَذَا الْبَيْتُ الَّذِي يُوحَى فِيهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ مُحَالٌ أَنْ يَكُونَ رَجُلٌ فِي بَيْتٍ ، وَفِيهِ صُورَةٌ أَنْ يَكُونَ حَافِظَاهُ مَعَهُ ، وَهُمَا مِنَ الْمَلائِكَةِ ، وَكَذَلِكَ مَعْنَى قَوْلِهِ : " لا تَصْحَبِ الْمَلائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا كَلْبٌ أَوْ جَرَسٌ " ، يُرِيدُ بِهِ رُفْقَةً فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ مُحَالٌ أَنْ يَخْرُجَ الْحَاجُّ وَالْعُمَّارُ مِنْ أَقَاصِي الْمُدُنِ وَالأَقْطَارِ يَؤُمُّونَ الْبَيْتَ الْعَتِيقَ عَلَى نَعَمٍ وَعِيسٍ بِأَجْرَاسٍ وَكِلابٍ ثُمَّ لا تَصْحَبُهَا الْمَلائِكَةُ وَهُمْ وَفْدُ اللَّهِ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: انہوں نے ایک پردہ خریدا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دروازے پر ٹھہر گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے اندر تشریف نہیں لائے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ناراضگی کے اثرات محسوس کر لیے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں توبہ کرتی ہوں میں نے کیا گناہ کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ پردہ کہاں سے آیا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خریدا ہے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر تشریف فرما ہوں اور اس کے ساتھ ٹیک لگائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ان تصویریں بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا ان سے یہ کہا: جائے گا تم نے جو تخلیق کیا تھا اسے زندہ کرو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک جس گھر میں تصویریں موجود ہوں فرشتے اس میں داخل نہیں ہوتے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس بات کا امکان موجود ہے یہ وہ گھر ہو، جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی اب یہ بات ناممکن ہے کوئی شخص گھر میں موجود ہو اور اس میں تصویر بھی موجود ہو تو آدمی کے ساتھ موجود حفاظت والے فرشتے گھر کے اندر نہ جائیں، حالانکہ وہ دونوں بھی فرشتے ہی ہیں اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ” فرشتے ایسے سواروں کے ساتھ نہیں ہوتے جن میں کتا یا گھنٹی موجود ہو “ اس کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ جو سوار سفر میں ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے ہیں اب یہ بات ناممکن ہے حاجی یا عمرہ کرنے والے لوگ دور دراز کے شہروں سے روانہ ہوں اور وہ اونٹوں اور جانوروں پر سوار ہو کر بیت عتیق آنے کا قصد کریں ان کے ہمراہ گھنٹیاں اور کتے بھی ہوں اور پھر فرشتے ان کے ساتھ نہ آئیں، حالانکہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس بات کا امکان موجود ہے یہ وہ گھر ہو، جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی اب یہ بات ناممکن ہے کوئی شخص گھر میں موجود ہو اور اس میں تصویر بھی موجود ہو تو آدمی کے ساتھ موجود حفاظت والے فرشتے گھر کے اندر نہ جائیں، حالانکہ وہ دونوں بھی فرشتے ہی ہیں اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ” فرشتے ایسے سواروں کے ساتھ نہیں ہوتے جن میں کتا یا گھنٹی موجود ہو “ اس کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ جو سوار سفر میں ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے ہیں اب یہ بات ناممکن ہے حاجی یا عمرہ کرنے والے لوگ دور دراز کے شہروں سے روانہ ہوں اور وہ اونٹوں اور جانوروں پر سوار ہو کر بیت عتیق آنے کا قصد کریں ان کے ہمراہ گھنٹیاں اور کتے بھی ہوں اور پھر فرشتے ان کے ساتھ نہ آئیں، حالانکہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں۔