کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: ناموں اور کنیتوں کا بیان - ذکر خبر کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخصوص ناموں سے پکارنے سے منع کرنے کا ارادہ کیا
حدیث نمبر: 5839
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ مَعْقِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ زَجَرْتُ أَنْ يُسَمَّى بَرَكَةً ، وَنَافِعًا ، وَأَفْلَحَ " ، فَلا أَدْرِي قَالَ : أَفْلَحُ أَمْ لا ؟ فَقُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَمْ يَزْجُرْ عَنْ ذَلِكَ ، فَأَرَادَ عُمَرُ أَنْ يَزْجُرَ عَنْ ذَلِكَ ، ثُمَّ تَرَكَهُ .
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: اگر اللہ نے چاہا اور میں زندہ رہ گیا، تو میں اس بات سے منع کر دوں گا کہ کسی کا نام برکت یا نافع یا افلح رکھا جائے۔ (راوی بیان کرتے ہیں) مجھے نہیں معلوم کہ روایت کے الفاظ میں لفظ افلح ہے یا نہیں ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں کیا تھا اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے منع کرنے کا ارادہ کیا، لیکن پھر انہوں نے بھی اسے چھوڑ دیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحظر والإباحة / حدیث: 5839
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3271). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5809»