کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: ناموں اور کنیتوں کا بیان - ذکر بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "دیکھو کہ اس سے زیادہ نہ کرو" سے مراد اس تعداد سے زیادہ نہ کرنا جو چار ہے
حدیث نمبر: 5838
أَخْبَرَنَا مَكْحُولٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُزْبُرَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تُسَمِّيَنَّ غُلامَكَ رَبَاحًا ، وَلا نَجِيحًا ، وَلا يَسَارًا ، وَلا أَفْلَحَ ، إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعٌ ، فَلا تَزِيدُوا عَلَيْهِ " . قَالَ الشَّيْخُ أَبُو حَاتِمٍ : يُشْبِهُ أَنْ تَكُونَ الْعِلَّةُ فِي الزَّجْرِ عَنْ تَسْمِيَةِ الْغِلْمَانِ بِالأَسَامِي الأَرْبَعِ الَّتِي ذُكِرَتْ فِي الْخَبَرِ هِيَ أَنَّ الْقَوْمَ كَانَ عَهْدُهُمْ بِالشِّرْكِ قَرِيبًا ، وَكَانُوا يُسَمُّونَ الرَّقِيقَ بِهَذِهِ الأَسَامِيَ ، وَيَرَوْنَ الرِّبْحَ مِنْ رَبَاحٍ ، وَالنُّجْحَ مِنْ نَجَاحٍ ، وَالْيُسْرَ مِنْ يَسَارٍ ، وَفَلاحٍا مِنْ أَفْلَحَ ، لا مِنَ اللَّهِ تَعَالَى جَلَّ وَعَلا ، فَمِنْ أَجْلِ هَذَا نَهَى عَمَّا نَهَى عَنْهُ .
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” تم اپنے غلام کا نام رباح یا نجیح یا یسار یا افلح نہ رکھو۔ “ (شاید راوی کہتے ہیں:) یہ چار نام ہیں تم ان میں کوئی اضافہ نہ کرنا۔ شیخ ابوحاتم بیان کرتے ہیں: اس بات کا احتمال موجود ہے اس روایت میں جو چار نام ذکر کیے گئے ہیں غلاموں کے وہ نام رکھنے کی اس ممانعت کی علت یہ ہو زمانہ شرک کے قریب تھا وہ اپنے غلاموں کے یہ نام رکھا کرتے تھے وہ یہ سمجھتے تھے کہ رباح نام کے ساتھ فائدہ ہوتا ہے نجاح نام کے ساتھ کامیابی ملتی ہے یسار نام کے ساتھ خوشحالی ملتی ہے اور فلاح کے نام کے ساتھ کامیابی ملتی ہے یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوتی تو اسی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو یہ نام رکھنے سے منع کر دیا۔