کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: ناموں اور کنیتوں کا بیان - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ یہ خبر صرف یحییٰ القطان نے عبید اللہ بن عمر سے بیان کی
حدیث نمبر: 5820
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَالَ لِعَاصِيَةَ : أَنْتِ جَمِيلَةُ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : اسْتِعْمَالُ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْفِعْلَ لَمْ يَكُنْ تَطَيُّرًا بِعَاصِيَةَ ، وَلَكِنْ تَفَاؤُلا بِجَمِيلَةَ ، وَكَذَلِكَ مَا يُشْبِهُ هَذَا الْجِنْسَ مِنَ الأَسْمَاءِ ، لأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الطِّيَرَةِ فِي غَيْرِ خَبَرٍ .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاصیہ (نامی خاتون) سے فرمایا: تم جمیلہ ہو۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس فعل پر عمل کرنا اس لیے نہیں تھا کہ آپ لفظ عاصیہ کے ذریعے بدشگونی مراد لے رہے تھے بلکہ آپ لفظ جمیلہ کے ذریعے فال حاصل کرنا چاہتے تھے اور اس نوعیت کے دیگر ناموں کا بھی یہی حکم ہو گا کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدشگونی سے منع کیا ہے جیسا کہ دوسری روایت میں مذکور ہے۔ س
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحظر والإباحة / حدیث: 5820
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م - وهو مكرر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5790»