کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: ناموں اور کنیتوں کا بیان - ذکر وجہ جس کی بنا پر اس فعل سے منع کیا گیا
حدیث نمبر: 5813
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ قَائِمًا بِالْبَقِيعِ ، فَنَادَى رَجُلٌ آخَرُ : يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، فَالْتَفَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لَمْ أَعْنِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا دَعَوْتُ فُلانًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسَمَّوْا بِاسْمِي ، وَلا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بقیع میں کھڑے ہوئے تھے ایک شخص نے بلند آواز میں دوسرے کو مخاطب کیا: اے ابوالقاسم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم متوجہ ہوئے تو اس نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں بلایا میں نے فلاں شخص کو بلایا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ میرے نام کے مطابق نام رکھ لو لیکن میری کنیت کے مطابق کنیت اختیار نہ کرو۔