کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: اجازت لینے (استیذان) کا بیان - ذکر خبر کہ انسان پر لازم ہے کہ وہ لوگوں سے اجازت مانگنے کا طریقہ بیان کرے اگر وہ اس کا ارادہ کرے
حدیث نمبر: 5810
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ ، أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُ ، سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : كُنَّا فِي مَجْلِسِ عِنْدَ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، فَأَتَى أَبُو مُوسَى الأَشْعَرِيُّ بِعَصًا حَتَّى وَقَفَ ، فَقَالَ : أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ ، هَلْ سَمِعَ أَحَدٌ مِنْكُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الاسْتِئْذَانُ ثَلاثٌ ، فَإِنْ أُذِنَ لَكَ ، وَإِلا فَارْجِعْ ؟ " . قَالَ أُبَيٌّ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : اسْتَأْذَنْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَمْسِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي ، فَرَجَعْتُ ، ثُمَّ جِئْتُهُ ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ ، فَأَخْبَرْتُهُ أَنِّي جِئْتُهُ أَمْسِ ، فَسَلَّمْتُ ثَلاثًا ، ثُمَّ انْصَرَفْتُ ، فَقَالَ : قَدْ سَمِعْنَاكَ وَنَحْنُ حِينَئِذٍ عَلَى شُغْلٍ ، فَلَوِ اسْتَأْذَنْتَ حَتَّى يُؤْذَنَ لَكَ ؟ قَالَ : اسْتَأْذَنْتُ كَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَوَاللَّهِ لأُوجِعَنَّ ظَهْرَكَ أَوْ لَتَأْتِيَنِّي بِمَنْ يَشْهَدُ لَكَ عَلَى هَذَا ، قَالَ : فَقَالَ أُبَيٌّ : وَاللَّهِ لا يَقُومُ مَعَكَ إِلا أَحْدَثُنَا سِنًّا ، قُمْ يَا أَبَا سَعِيدٍ ، فَقُمْتُ حَتَّى أَتَيْتُ عُمَرَ فَقُلْتُ : قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی محفل میں موجود تھے اسی دوران سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ عصا ہاتھ میں لے کر تشریف لے آئے اور ٹھہر گئے انہوں نے کہا: میں آپ لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ میں سے کسی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے، تین مرتبہ اجازت مانگی جائے اگر تمہیں اجازت مل جاتی ہے تو ٹھیک ہے ورنہ واپس چلے جاؤ۔ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کیا ہوا سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بتایا میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہاں اندر آنے کے لیے گزشتہ شام تین مرتبہ اجازت مانگی مجھے اجازت نہیں ملی تو میں واپس آ گیا پھر میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا جب میں ان کے پاس آیا تو میں نے انہیں بتایا، گزشتہ شام میں آپ کے پاس آیا تھا میں نے تین مرتبہ سلام کیا پھر میں واپس چلا گیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بتایا ہم نے آپ کی آواز سن لی تھی، لیکن ہم اس وقت کچھ مصروف تھے اگر آپ اجازت لیتے رہتے یہاں تک کہ آپ کو اجازت مل جاتی (تو یہ مناسب ہوتا) تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے دوسری طرح اجازت لی جس طرح میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم یا، تو آپ اس بارے میں اپنے ساتھ کوئی گواہ لے کر آئیں ورنہ ہم آپ کی پشت پر سزا عائد کریں گے۔ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم آپ کے ہمراہ وہ شخص اٹھ کر جائے گا جو ہم میں سب سے کم سن ہو۔ اے ابوسعید تم اٹھو۔ راوی کہتے ہیں: تو میں کھڑا ہوا اور میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا میں نے بتایا: میں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔