حدیث نمبر: 5806
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّازُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى ، اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ ، فَرَجَعَ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ ، فَقَالَ : مَا رَدَّكَ ؟ فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ ، فَلْيَرْجِعْ " ، فَقَالَ : لِتَجِئْنِي عَلَى هَذَا بِبَيِّنَةٍ وَإِلا ، قَالَ حَمَّادٌ : تَوَعَّدَهُ قَالَ : فَانْصَرَفَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَأَتَى مَجْلِسَ الأَنْصَارِ فَقَصَّ عَلَيْهِمُ الْقِصَّةَ : مَا قَالَ لِعُمَرَ ، وَمَا قَالَ لَهُ عُمَرُ ، فَقَالُوا : لا يَقُومُ مَعَكَ أَلا أَصْغَرُنَا ، فَقَامَ مَعَهُ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، فَشَهِدَ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : إِنَّا لا نَتَّهِمُكَ ، وَلَكِنَّ الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَدِيدٌ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الأَمْرُ بِالرُّجُوعِ لِلْمُسْتَأْذِنِ إِذَا كَانَ الشَّرْطُ مَوْجُودًا ، وَهُوَ عَدَمُ الإِذْنِ وَاجِبٌ ، وَمَتَى وُجِدَ الشَّرْطُ وَهُوَ الإِذْنُ بَطُلَ الأَمْرُ بِالرُّجُوعِ .
عبداللہ بن ابوسلمہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں اندر آنے کے لیے تین مرتبہ اجازت مانگی جب انہیں اجازت نہیں ملی تو وہ واپس چلے گئے اس بات کی اطلاع سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ملی، تو انہوں نے دریافت کیا آپ واپس کیوں چلے گئے تھے۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بتایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” جب کوئی شخص تین مرتبہ اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ ملے تو اسے واپس چلے جانا چاہئے۔ “ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا تو آپ اس پر کوئی گواہ لے آئیں ورنہ پھر (یہاں حماد نامی راوی نے یہ کہا: کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں سزا دینے کا کہا:)
راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ وہاں سے واپس آئے اور مسجد میں آ گئے وہ انصار کی محفل کے پاس تشریف لائے اور انہیں سارا واقعہ بیان کیا جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو انہوں نے بیان کیا اور جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تو ان لوگوں نے کہا: آپ کے ساتھ وہ شخص اٹھ کر جائے گا جو ہم میں کم سن ہو، تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اٹھ کر گئے اور انہوں نے اس بات کی گواہی دی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نے آپ پر کوئی الزام عائد نہیں کیا تھا، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے منقول حدیث کا معاملہ اہم ہوتا ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اجازت لینے والے کے لیے واپس جانے کا حکم ہونا اس صورت میں ہے جب شرط موجود ہو اور وہ یہ کہ اجازت کا نہ ہونا واجب ہو لیکن جب شرط پائی جائے گی اور وہ اجازت دینا ہے تو پھر واپس جانے کا حکم کالعدم تصور ہو گا۔
راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ وہاں سے واپس آئے اور مسجد میں آ گئے وہ انصار کی محفل کے پاس تشریف لائے اور انہیں سارا واقعہ بیان کیا جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو انہوں نے بیان کیا اور جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تو ان لوگوں نے کہا: آپ کے ساتھ وہ شخص اٹھ کر جائے گا جو ہم میں کم سن ہو، تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اٹھ کر گئے اور انہوں نے اس بات کی گواہی دی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نے آپ پر کوئی الزام عائد نہیں کیا تھا، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے منقول حدیث کا معاملہ اہم ہوتا ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اجازت لینے والے کے لیے واپس جانے کا حکم ہونا اس صورت میں ہے جب شرط موجود ہو اور وہ یہ کہ اجازت کا نہ ہونا واجب ہو لیکن جب شرط پائی جائے گی اور وہ اجازت دینا ہے تو پھر واپس جانے کا حکم کالعدم تصور ہو گا۔