کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: مزاح اور ہنسی کا بیان - ذکر خبر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسان کو اپنی باتوں میں کنایات استعمال کرنے کی اجازت ہے خواہ وہ اس کی حقیقت کا ارادہ نہ کرے
حدیث نمبر: 5799
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ بِحِمْصَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمَذْحِجِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتِ : اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ أَفْلَحُ أَخُو أَبِي قُعَيْسٍ بَعْدَ مَا نَزَلَ الْحِجَابُ ، فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لا آذَنُ لَهُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ فِيهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي قُعَيْسٍ اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَمَا يَمْنَعُكِ أَنْ تَأْذَنِي لِعَمِّكِ ؟ " قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ الرَّجُلَ لَيْسَ هُوَ الَّذِي أَرْضَعَنِي ، إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي امْرَأَتُهُ ! قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُوَ عَمُّكِ ، ائْذَنِي لَهُ تَرِبَتْ يَمِينُكِ " ، قَالَ عُرْوَةُ : فَلِذَلِكَ كَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ : حَرِّمُوا مِنَ الرَّضَاعِ مَا تُحَرِّمُونَ مِنَ النَّسَبِ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ابوقعیس کے بھائی افلح نے حجاب کا حکم نازل ہو جانے کے بعد ایک مرتبہ اندر آنے کی اجازت مانگی، تو میں نے کہا: اللہ کی قسم میں انہیں اس وقت تک اجازت نہیں دوں گی جب تک ان کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت نہیں لیتی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ میرے ہاں تشریف لائے میں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! ابوقعیس کے بھائی افلح نے میرے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی، تو میں نے انہیں اس وقت تک اجازت دینے سے انکار کر دیا جب تک میں آپ سے اجازت نہیں لیتی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اپنے چا کو اندر آنے کی اجازت کیوں نہیں دی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! مجھے مرد نے دودھ نہیں پلایا تھا مجھے اس کی بیوی نے دودھ پلایا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ تمہارا چچا ہے تم نے اسے اجازت دے دینی تھی تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں۔ عروہ بیان کرتی ہیں: اسی وجہ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یہ فرماتی تھیں: رضاعت کی وجہ سے تم لوگ ان چیزوں کو بھی حرام سمجھو جنہیں نسب کی وجہ سے حرام قرار دیتے ہو۔