کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: مزاح اور ہنسی کا بیان - ذکر اجازت کہ وہ شخص مزاح کر سکتا ہے جو اپنے دین پر بھروسہ رکھتا ہو خواہ اس کی بات ظاہری طور پر ناگوار ہو
حدیث نمبر: 5791
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِهَابٍ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : رَأَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَارِيَةً يَتِيمَةً عِنْدَ أُمِّ سُلَيْمٍ ، وَهِيَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ شِبْتِ ، لا أَشَبَّ اللَّهُ قَرْنَكِ " ، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ : لَقَدْ دَعَوْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَى يَتِيمَتِي أَنْ لا يُشِبَّ اللَّهُ قَرْنَهَا ، فَوَاللَّهِ لا تَشِبُّ أَبَدًا ! فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ، أَوَ مَا عَلِمْتِ أَنِّي اتَّخَذْتُ عِنْدَ رَبِّي عَهْدًا : أَيُّمَا أَحَدٍ مِنْ أُمَّتِي دَعَوْتُ عَلَيْهِ لَيْسَ مِنْ أَهْلِهَا أَنْ يَجْعَلَهَا لَهُ طَهُورًا ، أَوْ قُرْبَةً يُقَرِّبُهُ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ ! " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ہاں ایک یتیم لڑکی دیکھی سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تمہارے سفید بال آ گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمہاری چٹیا کو سفید نہ کرے۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری یتیم بچی کے لیے یہ دعا کی ہے اللہ تعالیٰ اس کی چٹیا کو سفید نہ کرے۔ اللہ کی قسم! یہ تو کبھی سفید نہیں ہو گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ام سلیم! کیا تم یہ بات نہیں جانتی کہ میں نے اپنے پروردگار سے یہ عہد لیا ہے میں اپنی امت کے جس بھی فرد کے لیے دعائے ضرر کروں اور وہ اس کا مستحق نہ ہو، تو اللہ تعالیٰ اس دعا کو اس کے حق میں طہارت کے حصول کا ذریعہ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قرب کے حصول کا ذریعہ بنا دے گا۔