کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: مزاح اور ہنسی کا بیان - ذکر اجازت کہ انسان اپنے مسلمان بھائی سے مزاح کرے جو کتاب اور سنت سے منع نہ ہو
حدیث نمبر: 5790
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ يُقَالُ لَهُ زَاهِرُ بْنُ حَرَامٍ ، كَانَ يُهْدِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهَدِيَّةَ ، فَيُجَهِّزُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ زَاهِرًا بَادِينَا ، وَنَحْنُ حَاضِرُوهُ " ، قَالَ : فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبِيعُ مَتَاعَهُ ، فَاحْتَضَنَهُ مِنْ خَلْفِهِ وَالرَّجُلُ لا يُبْصِرُهُ ، فَقَالَ : أَرْسِلْنِي ! مَنْ هَذَا ؟ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ ، فَلَمَّا عَرَفَ أَنَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ يُلْزِقُ ظَهْرَهُ بِصَدْرِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَشْتَرِي هَذَا الْعَبْدَ " ؟ ! فَقَالَ زَاهِرٌ : تَجِدُنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ كَاسِدًا ، قَالَ : " لَكِنَّكَ عِنْدَ اللَّهِ لَسْتَ بِكَاسِدٍ " ، أَوْ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَلْ أَنْتَ عِنْدَ اللَّهِ غَالٍ " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: دیہات سے تعلق رکھنے والا ایک شخص جسے زاہر بن حرام کہا: جاتا تھا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحفہ پیش کیا کرتا تھا، پھر جب وہ واپس جانے لگتا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسے ساز و سامان دیا کرتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: زاہر ہمارا دیہاتی ہے اور ہم اس کے شہری ہیں۔
راوی بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے وہ اس وقت (بازار میں کھڑا) اپنا سامان فروخت کر رہا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے سے اسے اپنے بازؤں کے حلقے میں لے لیا وہ شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھ سکا اس نے کہا: آپ مجھے چھوڑ دیں کون ہے؟ جب اس نے مڑ کر دیکھا اور اسے پتہ چلا کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو اس نے اپنی پشت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے کے ساتھ لگا دی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا اس غلام کو کون خریدے گا زاہر نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بہت کم قیمت پائیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، لیکن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تم کم قیمت نہیں ہو (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) بلکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تم قیمتی ہو۔
راوی بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے وہ اس وقت (بازار میں کھڑا) اپنا سامان فروخت کر رہا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے سے اسے اپنے بازؤں کے حلقے میں لے لیا وہ شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھ سکا اس نے کہا: آپ مجھے چھوڑ دیں کون ہے؟ جب اس نے مڑ کر دیکھا اور اسے پتہ چلا کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو اس نے اپنی پشت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے کے ساتھ لگا دی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا اس غلام کو کون خریدے گا زاہر نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بہت کم قیمت پائیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، لیکن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تم کم قیمت نہیں ہو (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) بلکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تم قیمتی ہو۔