کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: شاعری اور مسجع کلام کا بیان - ذکر اجازت کہ مشرکین کو اس شعر سے ابھارا جائے جو ان کے لیے پڑھنا مشکل ہو
حدیث نمبر: 5788
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، أَخُو مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ قَامَ أَهْلُ مَكَّةَ سِمَاطَيْنِ ، قَالَ : وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ يَمْشِي ، وَيَقُولُ : خَلُّوا بَنِي الْكُفَّارِ عَنْ سَبِيلِهِ الْيَوْمَ نَضْرِبْكُمْ عَلَى تَنْزِيلِهِ ضَرْبًا يُزِيلُ الْهَامَ عَنْ مَقِيلِهِ وَيُذْهِلُ الْخَلِيلَ عَنْ خَلِيلِهِ يَا رَبِّ إِنِّي مُؤْمِنٌ بِقِيلِهِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : يَا ابْنَ رَوَاحَةَ ، أَتَقُولُ الشِّعْرَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ! قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَهْ يَا عُمَرُ ، لَهَذَا أَشَدُّ عَلَيْهِمْ مِنْ وَقْعِ النَّبْلِ " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ علی بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو اہل مکہ دونوں اطراف میں کھڑے ہو گے راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن رواحہ دلی چلتے ہوئے یہ شعر پڑھ رہے تھے۔ اے کافروں کی اولاد تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے سے ہٹ جاؤ آج ہم قرآن کے حکم کے مطابق تمہیں ماریں گے ایسی ضرب لگا ئیں گے جو سر کو تن سے جدا کر دے گی اور دوست کو دوست سے جدا کر دے گی اے میرے پروردگار بے شک میں تیرے فرمان پر ایمان رکھتا ہوں۔ “ سیدنا عمر یا اللہ نے ان سے کہا: اے ابن رواحہ! کیا تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شعر کہہ رہے ہو تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! اسے کرنے دو یہ اشعاران (کفار) کے لیے نیزے لگنے سے زیادہ سخت (تکلیف دہ) ہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحظر والإباحة / حدیث: 5788
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «مختصر الشمائل» (رقم 210). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5758»