کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: تعریف و مدح کا بیان - ذکر خبر کہ انسان کے لیے مستحب ہے کہ وہ عذر قبول کرے اور تعریف کے وقت اٹھ کھڑا ہو جب حق اس کا تقاضا کرے
حدیث نمبر: 5773
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ وَرَّادٍ ، كَاتَبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ لَوْ رَأَيْتُ رَجُلا مَعَ امْرَأَتِي لَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ غَيْرَ مُصْفِحٍ عَنْهُ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَلا تَعْجَبُونَ مِنْ غَيْرَةِ سَعْدٍ ؟ فَوَاللَّهِ لأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ ، وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنِّي ، وَمِنْ أَجْلِ غَيْرَةِ اللَّهِ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ، وَلا شَخْصَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْعُذْرُ مِنَ اللَّهِ ، وَمِنْ أَجْلِ ذَلِكَ بَعَثَ اللَّهُ الْمُرْسَلِينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ ، وَلا شَخَصَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنَ اللَّهِ ، مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ وَعَدَ اللَّهُ الْجَنَّةَ " .
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پاؤں تو اس سے درگزر کئے بغیر تلوار کے ذریعے قتل کر دوں گا۔ اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں سعد کے مزاج کی تیزی پر حیرانگی نہیں ہوئی اللہ کی قسم میں اس سے زیادہ غیرت والا ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے بھی زیادہ غیرت والا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے غیرت کی وجہ سے ظاہری اور باطنی فواحش کو حرام قرار دیا ہے اور عذر پیش کرنا کسی کے نزدیک بھی اتنا محبوب نہیں ہے جتنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ہے اسی وجہ سے اس نے رسولوں کو خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور کوئی شخص ایسا نہیں ہے جس کے نزدیک اپنی تعریف اللہ تعالیٰ سے زیادہ پسندیدہ ہو اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے (اپنی تعریف بیان کرنے والے کے لیے) جنت کا وعدہ کیا ہے۔