کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: تعریف و مدح کا بیان - ذکر بیان کہ انسان کو جائز ہے کہ وہ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کی تعریف کرے اگر اس کا مقصد سننے والوں کے لیے خیر کا ارادہ ہو نہ کہ نفس کی خواہشات کی تکمیل
حدیث نمبر: 5772
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَنَّ أَبَاهُ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ يَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْفَلَهُ مِنْ حُنَيْنٍ ، عَلِقَتِ الأَعْرَابُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى اضْطَرُّوهُ إِلَى سَمُرَةٍ ، وَخُطِفَ رِدَاءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " أَعْطُونِي رِدَائِي ، لَوْ كَانَ لِي عَدَدُ هَذِهِ الْعِضَاهِ نَعَمًا لَقَسَمْتُهَا بَيْنَكُمْ ، ثُمَّ لا تَجِدُونِي كَذَّابًا ، وَلا جَبَانًا " .
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کر رہے تھے یہ حنین سے واپسی کی بات ہے اسی دوران دیہاتیوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے چیزیں مانگ رہے تھے یہاں تک کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو درخت کی طرف جانے پر مجبور کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر بھی کھینچ لی گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری چادر مجھے دو اگر میرے پاس ان ٹہنیوں کی تعداد میں نعمتیں ہوں تو میں انہیں تمہارے درمیان تقسیم کر دوں گا تم مجھے غلط بیانی کرنے والا یا بزدل نہیں پاؤ گے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحظر والإباحة / حدیث: 5772
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (4800). تنبيه!! رقم (4800) = (4820) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الصحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5742»