کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: تعریف و مدح کا بیان - ذکر وجہ جس کی بنا پر اس فعل سے منع کیا گیا
حدیث نمبر: 5767
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : مَدَحَ رَجُلٌ رَجُلا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَيْحَكَ ! قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ " مِرَارًا ، ثُمَّ قَالَ : " إِنْ كَانَ أَحَدُكُمْ مَادِحًا أَخَاهُ لا مَحَالَةَ ، فَلْيَقُلْ : أَحْسِبُ فُلانًا ، وَلا أُزَكِّي عَلَى اللَّهِ أَحَدًا " .
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں دوسرے شخص کی تعریف کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارا ستیاناس ہو تم نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی ہے، یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی مرتبہ ارشاد فرمائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کسی شخص نے اپنے کسی بھائی کی تعریف کرنی ہو تو اسے یہ کہنا چاہئے کہ فلاں شخص کے بارے میں، میں یہ گمان کرتا ہوں ویسے میں اللہ تعالیٰ کے سامنے کسی کو پاک قرار نہیں دیتا۔