کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: تعریف و مدح کا بیان -
حدیث نمبر: 5766
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمِ بْنِ خَالِدٍ الْبِرْتِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : مَدَحَ رَجُلٌ رَجُلا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَيْلَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ " مِرَارًا ، ثُمَّ قَالَ : " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ مَادِحًا أَخَاهُ ، فَلْيَقُلْ : أَحْسِبُ فُلانًا ، وَاللَّهُ حَسِيبُهُ إِنْ كَانَ يَعْلَمُ ذَلِكَ كَذَا وَكَذَا " .
سیدنا ابوبکرہ رضی االلہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں دوسرے شخص کی تعریف کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارا ستیاناس ہو تم نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی ہے یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی مرتبہ ارشاد فرمائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کسی نے اپنے کسی بھائی کی تعریف کرنی ہو تو اسے یہ کہنا چاہئے، کہ فلاں شخص کے بارے میں، میں یہ گمان کرتا ہوں ویسے اللہ تعالیٰ اس کا نگران ہے (اور یہ الفاظ بھی اس وقت استعمال کرنے چاہئیں) جب آدمی کو یہ بات پتہ ہو کہ وہ شخص ایسا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحظر والإباحة / حدیث: 5766
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (2662). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5736»