کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: غیبت کا بیان - ذکر خبر کہ غیبت اور بہتان کے درمیان فرق ہے
حدیث نمبر: 5758
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمَذَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَتَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ ؟ " قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " أَنْ تَذْكُرَ أَخَاكَ بِمَا لَيْسَ فِيهِ " ، قَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا ذَكَرْتُ ؟ قَالَ : " إِنْ كَانَ فِيهِ مَا ذَكَرْتَ فَقَدِ اغْتَبْتَهُ ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ مَا ذَكَرْتَ فَقَدْ بَهَتَّهُ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” کیا تم لوگ جانتے ہو غیبت کیا ہے لوگوں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تم ان بھائی کا ذکر اس میں موجود خامی کے ہمراہ کرو (لوگوں نے) عرض کی: اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، اگر وہ چیز واقعی میرے بھائی میں موجود ہو، جس کا میں نے کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر وہ چیز واقعی اس میں موجود ہو جس کا تم نے ذکر کیا ہے تو تم نے اس کی غیبت کی اور تم نے جس کا ذکر کیا ہے اگر وہ اس میں موجود نہ ہو، تو پھر تم نے اس پر بہتان لگایا۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحظر والإباحة / حدیث: 5758
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «غاية المرام» (426)، «نقد الكتاني» (36)، «الصحيحة» (2667): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5728»