کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: لعنت کرنے کا بیان - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ گناہ کی وجہ سے انسان کو لعنت کرنا واجب نہیں
حدیث نمبر: 5748
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَعَنَ اللَّهُ السَّارِقَ يَسْرِقُ الْبَيْضَةَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ ، وَيَسْرِقُ الْحَبْلَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ أَرَادَ بِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخِطَابِهِ هَذَا بَيْضَةَ الْحَدِيدِ أَوْ بَيْضَةَ النَّعَامَةِ الَّتِي قِيمَتُهَا تَبْلُغُ رُبْعَ دِينَارٍ فَصَاعِدًا ، وَكَذَلِكَ الْحَبْلُ ، أَرَادَ بِهِ الْحِبَالَ الْكِبَارَ الَّتِي تَكُونُ لِلآبَارِ الْعَمِيقَةِ الْقَعْرِ ، أَوْ لِلْمَرَاكِبِ الْعَمَّالَةِ فِي الْبَحْرِ ، وَذَلِكَ أَنَّ أَهْلَ الْحِجَازِ الْغَالِبُ عَلَيْهِمُ الآبَارُ الْعَمِيقَةُ الْقَعْرِ ، وَعَلَيْهَا بَكَرَاتٌ لَهُمْ بِحِبَالِ الدِّلاءِ تَدُورُ ، فَتُتْرَكَ بِاللَّيْلِ عَلَى حَالِهَا ، وَهَكَذَا حِبَالُ الْمَرَاكِبِ ، لأَنَّ الْمَرْكِبَ إِذْ رَسَى رُبَّمَا طُرِحَتِ الْمَرَاسِي بِحَالِهَا بَرًّا ، فَتَمُرُّ بِهِ السَّابِلَةُ ، فَزَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْخَطَّابِ مَسَّ شَيْءٍ مِنْهَا عَلَى سَبِيلِ الاسْتِحْلالِ دُونَ الانْتِفَاعِ بِهَا .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” اللہ تعالیٰ چور پر لعنت کرے جو ایک انڈہ (یا ڈھال) چوری کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے وہ ایک رسی چوری کرتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے۔ “
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس بات کا احتمال موجود ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فرمان میں لفظ ” انڈہ “ کے ذریعے لوہے کا ٹکڑا مراد لیا ہو یا شتر مرغ کا انڈا مراد لیا ہو جس کی قیمت ایک چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ کے برابر ہوتی ہے اس طرح رسی کے ذریعے وہ رسی لی ہو جو بڑی ہوتی ہے جو گہرے کنوؤں میں استعمال ہوتی ہے یا سمندر میں کشتیوں وغیرہ کے لیے استعمال ہوتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل حجاز کے ہاں زیادہ تر کنویں گہرے ہوتے ہیں وہاں ڈولوں کے ساتھ جو رسیاں ہوتی ہیں وہ گھومتی رہتی ہیں انہیں رات کے وقت اسی حالت میں چھوڑ دیا جاتا ہے اسی طرح سواریوں (یا کشتیوں) کی رسیوں کا عالم ہے کیونکہ جب سواری کو چھوڑ دیا جاتا ہے تو بعض اوقات اس کی رسیاں خشکی پر اس عالم میں رہ جاتی ہیں، جس پر نمی والی ہوا گزرتی ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ کے ذریعے ایسی کسی بھی چیز کو چھونے سے منع کیا ہے جب کہ آدمی اسے ذاتی ملکیت میں لے اس سے یہ مراد نہیں ہے اس سے نفع حاصل کرنے سے منع کیا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحظر والإباحة / حدیث: 5748
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (2410): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5718»