کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: لعنت کرنے کا بیان - ذکر منع کہ انسان اپنے مسلمان بھائی کو لعنت کرے جبکہ اس نے کوئی گناہ نہ کیا ہو جو اس کا مستوجب ہو
حدیث نمبر: 5746
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، قَالَ : كَانَ عَبْدُ الْمَلِكِ يُرْسِلُ إِلَى أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : وَرُبَّمَا بَاتَتْ عِنْدَهُ ، قَالَ : فَدَعَا عَبْدُ الْمَلِكِ خَادِمًا فَأَبْطَأَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ الْعَنْهُ ، فَقَالَتْ لا تَلْعَنْهُ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يُحَدِّثُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّعَّانَيْنَ لا يَكُونُونَ شُهَدَاءَ ، وَلا شُفَعَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
زید بن اسلم بیان کرتے ہیں: عبدالملک نے سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا کی طرف پیغام بھیجا۔ راوی بیان کرتے ہیں: وہ خاتون بعض اوقات ان کے ہاں قیام بھی کر لیتی تھیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: عبدالملک نے اپنے خادم کو بلوایا اسے آنے میں دیر ہو گئی تو عبدالملک نے کہا: اے اللہ اس پر لعنت کر دے۔ اس خاتون نے کہا: تم اس پر لعنت نہ کرو کیونکہ میں نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہوئے سنا ہے: ” بے شک لعنت کرنے والے لوگ قیامت کے دن نہ، تو شہید ہوں گے اور نہ شفیع ہوں گے۔ “