کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: لعنت کرنے کا بیان - ذکر منع کہ عورتیں زیادہ لعن طعن کریں اور اپنے شوہر کو کافر کہیں
حدیث نمبر: 5744
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَضْحًى ، أَوْ فِطْرٍ إِلَى الْمُصَلَّى ، فَصَلَّى ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَقَامَ ، فَوَعَظَ النَّاسَ وَأَمَرَهُمْ بِالصَّدَقَةِ ، قَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، تَصَدَّقُوا " ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَمَرَّ عَلَى النِّسَاءِ فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ ، فَإِنِّي أَرَاكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ " ، فَقُلْنَ : وَلِمَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ ، مَا رَأَيْتُ مِنَ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَذْهَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْ إِحْدَاكُنَّ ، يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ " ، فَقُلْنَ لَهُ : مَا نُقْصَانُ دِينِنَا وَعَقْلِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَلَيْسَ شَهَادَةُ الْمَرْأَةِ مِثْلَ نِصْفِ شَهَادَةِ الرَّجُلِ ؟ " قُلْنَ : بَلَى ، قَالَ : " فَذَاكَ نُقْصَانُ عَقْلِهَا ، أَوَ لَيْسَتْ إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ لَمْ تُصَلِّ وَلَمْ تَصُمْ ؟ " قُلْنَ : بَلَى ، قَالَ : " فَذَاكَ نُقْصَانُ دِينِهَا " . ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا صَارَ إِلَى مَنْزِلِهِ ، جَاءَتْ زَيْنَبُ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ تَسْتَأْذِنُ عَلَيْهِ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذِهِ زَيْنَبُ تَسْتَأْذِنُ عَلَيْكَ ، فَقَالَ : " أَيُّ الزَّيَانِبِ ؟ " قِيلَ : امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " نَعَمْ ، ائْذَنُوا لَهَا " ، فَأُذِنَ لَهَا ، فَقَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنَّكَ أَمَرْتَنَا الْيَوْمَ بِالصَّدَقَةِ ، وَكَانَ عِنْدِي حُلِيٌّ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَصَدَّقَ ، فَزَعَمَ ابْنُ مَسْعُودٍ أَنَّهُ وَوَلَدَهُ أَحَقُّ مَنْ تَصَدَّقَتْ بِهِ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَدَقَ ، زَوْجُكِ ، وَوَلَدُكِ أَحَقُّ مَنْ تَصَدَّقْتِ بِهِ عَلَيْهِمْ " .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالاضحی یا عیدالفطر کے موقع پر عید گاہ کی طرف تشریف لے گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ختم کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے انہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے لوگو صدقہ کرو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے مڑے اور خواتین کے پاس تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے خواتین کے گروہ تم لوگ صدقہ کرو کیونکہ میں نے دیکھا ہے جہنم میں اکثریت تم خواتین کی ہے ان خواتین نے دریافت کیا: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! اس کی وجہ کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ لعنت کثرت سے کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو اے خواتین کے گروہ میں نے ایسی کوئی مخلوق نہیں دیکھی جو عقل اور دین کے اعتبار سے ناقص ہونے کے باوجود سمجھ دار اور تجربہ کار آدمی کی عقل کو رخصت کر دیتی ہے ان خواتین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! ہمارے دین اور عقل میں کیا کمی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا ایک عورت کی گواہی مرد کی گواہی کا نصف نہیں ہوتی۔ ان خواتین نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ان کی عقل کی کمی کی وجہ سے ہے کیا جب عورت حائضہ ہوتی ہے تو وہ نماز اور روزہ ترک نہیں کر دیتی ان خواتین نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ان کے دین کی کمی ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے مڑے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! سیدہ زینب رضی اللہ عنہا اندر آنا چاہ رہی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون سی زینب۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں اس خاتون کو اندر آنے دو اس خاتون کو اندر آنے کی اجازت دی گئی اس نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آج ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا میرے پاس کچھ زیورات ہیں میں نے انہیں صدقہ کرنے کا ارادہ کیا تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ خیال ہے وہ اور ان کی اولاد اس بات کے زیادہ حقدار ہیں، میں یہ زیورات ان پر صدقہ کروں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس نے ٹھیک کہا: ہے تمہارا شوہر اور تمہاری اولاد اس بات کے زیادہ حق دار ہیں، تم ان پر صدقہ کرو۔